اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 525
اصحاب بدر جلد 4 525 یا فرمایا تم نے شاہانہ فیصلہ کیا ہے یعنی تم نے بادشاہوں جیسا فیصلہ کیا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔غزوہ بنو قریظہ کی بعض مزید باتیں 1181 اس کی جو بعض زائد باتیں ہیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی تفصیل بیان کی ہے۔کچھ باتیں میں یہاں بیان کر دیتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں: بنو قریظہ کے تعلق میں ہی کہ آخر کم و بیش تیس (ہیں) دن کے محاصرے کے بعد یہ بد بخت یہود ایک ایسے شخص کو حکم مان کر اپنے قلعوں سے اترنے پر رضامند ہوئے جو باوجو دان کا حلیف ہونے کے ان کی کارروائیوں کی وجہ سے ان کے لیے اپنے دل میں کوئی رحم نہیں پاتا تھا اور جو گو عدل وانصاف کا مجسمہ تھا مگر اس کے قلب میں رحمتہ للعالمین کی سی شفقت اور رافت نہیں تھی۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قبیلہ اوس بنو قریظہ کا قدیم حلیف تھا اور اس زمانہ میں اس قبیلہ کے رئیس سعد بن معاذ تھے جو غزوہ خندق میں زخمی ہو کر اب مسجد کے صحن میں زیر علاج تھے۔اس قدیم جتھہ داری کا خیال کرتے ہوئے بنو قریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ کو اپنا حکم مانتے ہیں۔جو فیصلہ بھی وہ ہمارے متعلق کریں وہ ہمیں منظور ہو گا۔لیکن یہود میں بعض ایسے لوگ بھی تھے (جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے) جو اپنے اس قومی فیصلہ کو صحیح نہیں سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو مجرم یقین کرتے تھے اور دل میں اسلام کی صداقت کے قائل ہو چکے تھے۔ایسے لوگوں میں سے بعض آدمی جن کی تعداد تاریخی روایات میں تین بیان ہوئی ہے بطیب خاطر بڑی خوشی سے اسلام قبول کر کے آنحضرت صلی علیکم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گئے۔ایک اور شخص تھا ہ مسلمان تو نہیں ہوا مگر وہ اپنی قوم کی غداری پر اس قدر شرمندہ تھا کہ جب بنو قریظہ نے آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ جنگ کرنے کی ٹھانی تو وہ یہ کہتا ہوا کہ میری قوم نے محمد صلی علیم سے سخت غداری کی ہے میں اس غداری میں شامل نہیں ہو سکتا، مدینہ چھوڑ کر کہیں باہر چلا گیا تھا مگر باقی قوم آخر تک اپنی ضد پر قائم رہی اور سعد کو اپنا ثالث بنانے پر اصرار کیا۔آنحضرت صلی علی کرم نے بھی اسے منظور فرمایا (جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے) اس کے بعد آپ نے چند انصاری صحابیوں کو سعد کے لانے کے لیے روانہ فرمایا۔سعد آئے اور راستہ میں ان کے قبیلے کے بعض لوگوں نے اصرار کیا اور بار بار یہ درخواست کی کہ قریظہ ہمارے حلیف ہیں اس لیے ان کا خیال رکھنا۔جس طرح خزرج نے اپنے حلیف قبیلہ بنو قینقاع کے ساتھ نرمی کی تھی تم بھی قریظہ سے رعایت کا معاملہ کرنا اور انہیں سخت سزا نہ دینا۔سعد بن معاذ پہلے تو خاموشی کے ساتھ ان کی باتیں سنتے رہے لیکن جب ان کی طرف سے زیادہ اصرار ہونے لگا تو سعد نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ سعد اُس وقت حق و انصاف کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کر سکتا۔جب سعد کا یہ جواب سنا تو لوگ خاموش ہو گئے۔بہر حال جب سعد آنحضرت صلی علیم کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے رئیس کے لیے اٹھو اور سواری سے نیچے اترنے میں انہیں مدد دو۔جب سعد سواری سے نیچے اترے تو آنحضرت صلی علیکم وہ