اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 524

ناب بدر جلد 4 524 فیصلہ دیا تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ”آج عیسائی دنیا شور مچاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علی ہم نے ظلم کیا۔کہ۔کیا عیسائی مصنف اس بات کو نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم نے کسی دوسرے موقع پر کیوں ظلم نہ کیا؟“ باقی تو کہیں ظلم نظر نہیں آتا۔”سینکڑوں دفعہ دشمن نے محمد رسول اللہ صلی علیم کے رحم پر اپنے آپ کو چھوڑا اور ہر دفعہ محمد رسول اللہ صلی علیہم نے ان کو معاف کر دیا۔یہ ایک ہی موقع ہے کہ دشمن نے اصرار کیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علیم کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے بلکہ فلاں دوسرے شخص کے فیصلہ کو مانیں گے اور اس شخص نے محمد رسول اللہ صلی اللی علم سے پہلے اقرار لے لیا کہ جو میں فیصلہ کروں گا اسے آپ مانیں گے۔“جیسا کہ تاریخ سے ظاہر ہے اقرار آپ سے بھی لیا گیا تھا اس کے بعد اس نے فیصلہ کیا بلکہ اُس نے فیصلہ نہیں کیا۔اس نے موسیٰ کا فیصلہ دہرا دیا جس کی امت میں سے ہونے کے یہود مدعی تھے۔پس اگر کسی نے ظلم کیا تو یہود نے اپنی جانوں پر ظلم کیا جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی علیہ کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔اگر کسی نے ظلم کیا تو موسی نے ظلم کیا جنہوں نے محصور دشمن کے متعلق تورات میں خدا سے حکم پا کر یہی تعلیم دی تھی۔اگر یہ ظلم تھا تو ان عیسائی مصنفوں کو چاہئے کہ موسیٰ کو ظالم قرار دیں بلکہ موسیٰ کے خدا کو ظالم قرار دیں جس نے یہ تعلیم تو رات میں دی ہے۔آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے احزاب کی جنگ کے خاتمہ کے بعد رسول کریم صلی ال یکم نے فرمایا۔آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے۔اب اسلام خود جواب دے گا اور ان اقوام پر جنہوں نے ہم پر حملے کئے تھے اب ہم چڑھائی کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔احزاب کی جنگ میں بھلا کفار کا نقصان ہی کیا ہوا تھا؟ چند آدمی مارے گئے تھے۔وہ دوسرے سال پھر دوبارہ تیاری کر کے آسکتے تھے۔ہمیں ہزار کی جگہ وہ چالیس یا پچاس ہزار کا لشکر بھی لا سکتے تھے بلکہ اگر وہ اور زیادہ انتظام کرتے تو لاکھ ڈیڑھ کا لشکر لانا بھی ان کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا مگر اکیس سال کی متواتر کوشش کے بعد کفار کے دلوں کو محسوس ہو گیا تھا کہ خدا محمد رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ ہے۔ان کے بت جھوٹے ہیں اور دنیا کا پیدا کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ان کے جسم صحیح سلامت تھے مگر ان کے دل ٹوٹ چکے تھے۔“ یعنی کافروں کے ”بظاہر وہ اپنے بتوں کے آگے سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر ان کے دلوں میں سے لا إِلهَ إِلَّا اللہ کی آواز میں اٹھ رہی تھیں۔1180°C تم نے بادشاہوں جیسا فیصلہ کیا حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سعد بن معاذ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی شرط پر قلعہ سے اتر آئے۔آنحضرت صلی علیم نے حضرت سعد کو بلا بھیجا تو وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے۔جب مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی یکم نے فرمایا تم اپنے میں سے بہتر کے استقبال کے لیے اٹھویا فرمایا اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو۔پھر آپ نے فرمایا سعد یہ لوگ آپ کے فیصلہ پر اترے ہیں۔انہوں نے کہا: پھر میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے اہل و عیال قید کر لیے جائیں۔آپ نے فرمایا تم نے الہی منشاء کے مطابق فیصلہ کیا ہے