اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 38
اصحاب بدر جلد 4 38 سے ان کی معلومات ملتی رہیں تا کہ بروقت اطلاع ہو جائے اور مدینہ پر ہر قسم کے حملہ کا جو خطرہ ہے اس ے محفوظ رکھا جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے آپ ملکی تعلیم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحیا اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور پارٹی پر آپ نے اپنے پھو پھی زاد بھائی عبد اللہ بن جخش کو امیر مقرر فرمایا۔اس میں یہ ابو محذیفہ بن عُتبہ بھی شامل تھے۔اور اس خیال سے کہ اس پارٹی کی غرض و غایت عامۃ المسلمین سے بھی مخفی رہے، کسی کو پتہ نہ چلے آپ نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو بھی یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے بلکہ چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک سر بمہر خط دے دیا، سیل (seal) کر کے ایک خط دے دیا اور فرمایا کہ اس خط میں تمہارے لئے ہدایات درج ہیں۔جب تم مدینہ سے ، سمت بتادی، اس طرف دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایت کے مطابق، جو خط میں ہدایات ہیں ان کے مطابق عمل درآمد کرنا۔چنانچہ عبد اللہ اور ان کے ساتھی اپنے آقا کے حکم کے ماتحت روانہ ہو گئے اور جب دو دن کا سفر طے کر چکے تو عبد اللہ نے آنحضرت صلی علیم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں جاؤ اور وہاں جا کر قریش کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع کر دو۔اور چونکہ مکہ سے اس قدر قریب ہو کر خبر رسانی کرنے کا کام بڑا نازک تھا آپ نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو ، اس کو کسی قسم کا کوئی تامل ہو ، روک ہو تو اگر وہ واپس چلا آنا چاہے تو اسے واپس آنے کی اجازت ہے۔عبد اللہ نے آپ کی ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنادی اور سب نے یک زبان ہو کر بخوشی اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہا کہ ہم حاضر ہیں۔اونٹ گم ہو گیا۔۔۔۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اور عُتبہ بن غزوان کا اونٹ گم گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجود بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی صرف چھ آدمیوں پر رہ گئی۔چھ کس کی رہ گئی تو یہ چھ آدمی اپنے مشن کے لئے آگے چل پڑے۔مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نخلہ پہنچی اور اپنے کام میں یعنی خبر لینے کے کام میں مصروف ہو گئی کہ کفار مکہ کے کیا ارادے ہیں ؟ مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ تو نہیں ؟ یا اب ان کے کیا منصوبے بن رہے ہیں ؟ ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال بھی مینڈ وادئے تاکہ راہ گیر وغیرہ، جو گزرنے والے ہیں ان کو عمرے کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں۔یہی سمجھیں کہ شاید یہ لوگ بھی عمرے کے لئے جار ہے ہیں۔انہوں نے اپنے بال منڈوا دئے ہیں۔کہتے ہیں لیکن ابھی ان کو وہاں پہنچے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ بھی آگیا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔گند