اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 514
تاب بدر جلد 4 514 تبلیغ پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہی وہ عورتیں تھیں جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں مردوں کے دوش بدوش چلتی تھیں اور یہی وہ عورتیں تھیں جن کی قربانیوں پر اسلامی دنیا فخر کرتی ہے۔تمہارا بھی دعویٰ ہے، آج کل جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والی عور تیں ہیں، تمہارا بھی یہ دعویٰ ہے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائی ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم صلی علیم کے بروز ہیں۔گویا دوسرے لفظوں میں تم صحابیات کی بروز ہو لیکن تم صحیح طور پر بتاؤ کہ کیا تمہارے اندر دین کا وہی جذبہ موجزن ہے جو صحابیات میں تھا؟ کیا تمہارے اندر وہی نور موجود ہے جو صحابیات میں تھا؟ کیا تمہاری اولادیں ویسی ہی نیک ہیں جیسی صحابیات کی تھیں ؟ اگر تم غور کرو گی تو تم اپنے آپ کو صحابیات سے بہت پیچھے پاؤ گی۔صحابیات نے توجو قربانیاں کیں آج تک دنیا کے پر دے پر اس کی مثال نہیں ملتی۔ان کی قربانیاں جو انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر کیں اللہ تعالیٰ کو ایسی پیاری لگیں کہ اللہ تعالیٰ نے بہت جلد ان کو کامیابی عطا کی اور دوسری قومیں جس کام کو صدیوں میں نہ کر سکیں ان کو صحابہ اور صحابیات نے چند سالوں کے اندر کر کے دکھا دیا۔1170 ہمارے مردوں کو بھی وہی نمونے دکھانے پڑیں گے یہاں کیونکہ مخاطب آپ احمد کی خواتین سے تھے اس لیے ان کا ذکر ہے ورنہ بے شمار جگہ پر ہمیشہ خلفاء یہ کہتے آئے ہیں، میں بھی بیشمار دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارے مردوں کو بھی وہی نمونے دکھانے پڑیں گے تبھی ہم جو دعویٰ کرتے ہیں اور جو اس دعوی کو لے کر اٹھے ہیں کہ دنیا میں اسلام کا پیغام پھیلانا ہے اور دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لے کے آنا ہے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔جب ہماری قربانیاں اور ہمارے عمل اس کے مطابق ہوں گے جس کے نمونے صحابہ نے ہمارے سامنے قائم فرمائے۔آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "عیسائی دنیا مریم مگر لینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر صبح کے وقت دشمنوں سے چھپ کر پہنچی تھیں۔میں ان سے کہتا ہوں آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں انہوں نے اس کا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں انہوں نے توحید کے جھنڈے کو بلند کیا۔اس قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخ میں ملتی ہے جب رسول کریم صلی الی یوم شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے۔“ پھر ایک اور موقع پر دوبارہ حضرت سعد بن معاذ کی والدہ کی یہی مثال دے رہے ہیں کہ شہداء کو دفن کر کے جب مدینہ واپس گئے۔”تو پھر عور تیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لیے نکل آئے۔رسول کریم صلی علیم کی اونٹنی کی باگ سعد بن معاذ مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے۔شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ صلی علیکم کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے۔شہر کے پاس انہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔