اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 37
تاب بدر جلد 4 37 96 اس ہجرت کو بعض مورخین ہجرت حبشہ ثانیہ کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔مدینہ کی طرف ہجرت ایک پہلی ہجرت تھی اور پھر بعد میں جو دوسرے لوگ گئے۔اسی طرح بعد میں جب ہجرت مدینہ کی اجازت ہوئی ہے تو ابو محذیفہ اور حضرت سالم جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے دونوں مدینہ ہجرت کر گئے۔پہلی ہجرت تو انہوں نے حبشہ میں کی تھی۔اس زمانے میں واپس بھی آگئے۔پھر دوسری ہجرت ها الرس انہوں نے مدینہ کی جہاں آپ دونوں حضرت عباد بن بشر کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔رسول اللہ صلی علیکم نے حضرت ابوحذیفہ اور حضرت عباد بن بشر کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔آپس میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔97 سریہ عبد اللہ بن جحش حضرت ابو محذیفه سر یہ حضرت عبد اللہ بن بخش میں بھی شامل تھے۔8 98 یہ سر یہ جو عبد اللہ بن جحش کا تھا اس کی تفصیل اور پس منظر کی کچھ تفصیل جو سیرت خاتم النبیین میں ہے پیش کرتا ہوں۔مکہ کے ایک رئیس گرز بن جابر فھری نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر اچانک حملہ کیا جو شہر سے صرف تین میل پر تھی اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ لوٹ کرلے گیا۔آنحضرت صلی علیہ ہم کو یہ اطلاع ہوئی تو آپ فور ازید بن حارثہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر کر کے اور مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اس کے تعاقب میں نکلے اور سَفَوَان تک جو بدر کے پاس ایک جگہ ہے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔اس غزوہ کو غزوہ بدر الاولی بھی کہتے ہیں۔پھر لکھا ہے گرز بن جابر کا یہ حملہ ایک معمولی بدویانہ غارت گری نہیں تھی یعنی یہ نہیں تھا کہ کسی بدو نے آکر حملہ کر دیا اور جہالت میں صرف چوری اور ڈاکہ کے لئے حملہ کیا بلکہ یقیناً وہ قریش کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف خاص ارادے سے آیا تھا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی نیت خاص آنحضرت صلی اینیم کی ذات کو نقصان پہنچانے کی ہو۔مگر مسلمانوں کو ہوشیار پا کر ان کے اونٹوں پر ہاتھ صاف کر تا ہو انکل گیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ مدینہ پر چھاپے مار مار کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جائے۔گرز بن جابر کے اچانک حملے نے طبعاً مسلمانوں کو بہت زیادہ خوفزدہ کر دیا، متوحش کر دیا اور چونکہ رؤسائے قریش کی یہ دھمکی پہلے سے موجود تھی کہ ہم مدینہ پر حملہ آور ہوں گے اور حملہ کر کے مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیں گے مسلمان سخت فکر مند ہوئے اور انہی خطرات کو دیکھ کر آنحضرت صلی الیم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات و سکنات کا قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جائے۔دیکھا جائے کہ ان کے کیا منصوبے ہیں اور کیا ان کے ارادے ہیں۔اور اس کو دیکھنے کے لئے کوئی ایسی تدبیر کی جائے کہ قریب