اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 510
تاب بدر جلد 4 510 نہیں چاہتا کہ میرے محبوب کو کوئی تکلیف پہنچے اور کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا محبوب لڑائی میں جائے بلکہ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ محبوب لڑائی سے بچ جائے۔اسی طرح صحابہ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ لڑائی پر جائیں۔“ صحابہ اس بات کو نا پسند نہیں کرتے کہ ہم لڑائی پر کیوں جائیں بلکہ ان کو رسول کریم صلی للی کم کالڑائی پر جانانا پسند تھا اور یہ ان کی طبعی خواہش تھی جو ہر محب کو اپنے محبوب کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ جب رسول کریم صلی علیکم بدر کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارا مقابلہ قافلے سے نہیں بلکہ فوج کے ساتھ ہو گا۔پھر آپ نے ان سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا صلاح ہے ؟ جب اکابر صحابہ نے آپ کی یہ بات سنی تو انہوں نے باری باری اٹھ اٹھ کر نہایت جاں نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا ہم ہر خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ایک اٹھتا اور تقریر کر کے بیٹھ جاتا۔پھر دوسرا اٹھتا اور مشورہ دے کر بیٹھ جاتا۔غرض جتنے بھی اٹھے انہوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا خدا ہمیں حکم دیتا ہے تو ہم ضرور لڑیں گے مگر جب کوئی مشورہ دے کر بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی للی کرم فرماتے مجھے مشورہ دو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک جتنے صحابہ نے اٹھ اٹھ کر تقریریں کی تھیں اور مشورے دیے تھے وہ سب مہاجرین میں سے تھے مگر جب آپ نے بار بار یہی فرمایا کہ مجھے مشورہ دیا جائے تو سعد بن معاد رئیس اوس نے آپ کا منشاء سمجھا اور انصار کی طرف سے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ کی خدمت میں مشورہ تو عرض کیا جا رہا ہے مگر آپ پھر بھی یہی فرماتے ہیں کہ مجھے مشورہ دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ انصار کی رائے پوچھنا چاہتے ہیں۔اس وقت تک اگر ہم خاموش تھے تو صرف اس لیے کہ اگر ہم لڑنے کی تائید کریں گے تو شاید مہاجرین یہ سمجھیں کہ یہ لوگ ہماری قوم اور ہمارے بھائیوں سے لڑنا اور ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔پھر انہوں نے کہا یار سول اللہ شاید آپ کا بیعت عقبہ کے اس معاہدہ کے متعلق کچھ خیال ہے جس میں ہماری طرف سے یہ شرط پیش کی گئی تھی کہ اگر دشمن مدینے پر حملہ کرے گا تو ہم اس کا دفاع کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑنا پڑا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔آپ نے فرمایا ہاں۔سعد بن معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس وقت جبکہ ہم آپ کو مدینہ لائے تھے ہمیں آپ کے بلند مقام اور مرتبہ کا علم نہیں تھا۔اب تو ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے۔اب اس معاہدے کی ہماری نظروں میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔“ ہے یعنی جو بیعت عقبہ کے وقت معاہدہ ہو ا تھا وہ تو دنیاوی لحاظ سے ایک عام معاہدہ تھا۔اب جو ہم نے دیکھا ہے اور اس کے بعد ہماری روحانیت کی جو آنکھیں کھلی ہیں تو اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔” اس لیے آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور خدا کی قسم ! اگر آپ ہمیں سمندر میں کو د جانے کا حکم دیں تو ہم کو د جائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا۔یارسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ