اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 35

اصحاب بدر جلد 4 35 سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقتور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے۔اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔جب یہ مہاجرین جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے شعیبہ پہنچے جو اس زمانے میں عرب کا ایک بندر گاہ تھا تو اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ان کو ایک تجارتی جہاز مل گیا جو حبشہ کی طرف روانہ ہونے کو بالکل تیار تھا۔چنانچہ یہ اس میں سوار ہو گئے۔حبشہ پہنچ کر مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی اور خدا خدا کر کے قریش کے مظالم سے چھٹکارا ملا۔لیکن جیسا کہ بعض مورخین نے بیان کیا ہے ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک اُڑتی ہوئی افواہ ان تک پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکہ میں اب بالکل امن ہو گیا ہے۔اس خبر کا یہ نتیجہ ہوا کہ اکثر مہاجرین بغیر سوچے سمجھے واپس آگئے۔حبشہ سے مہاجرین کی واپسی کا قصہ بے بنیاد ہے اس افواہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کچھ روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح پھیلی اور کیوں ؟ اس افواہ کی کیا وجہ تھی ؟ مختلف تاریخوں سے اخذ کر کے وہ لکھتے ہیں کہ گو حقیقتا یہ افواہ بالکل جھوٹی اور بے بنیاد تھی جو مہاجرین حبشہ کو واپس لانے اور ان کو تکلیف میں ڈالنے کی غرض سے قریش نے مشہور کر دی ہو گی۔بلکہ زیادہ غور سے دیکھا جائے تو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصہ ہی بے بنیاد نظر آتا ہے لیکن (انہوں نے لکھا ہے ) اگر اس کو صحیح سمجھا جائے تو ممکن ہے کہ اس کی تہہ میں وہ واقعہ ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے اور جیسا کہ بخاری میں بھی یہ واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی الی یکم نے صحن کعبہ میں سورت نجم کی آیات تلاوت فرمائیں۔اس وقت وہاں کفار کے کئی رؤساء جو تھے وہ بھی موجود تھے، بعض مسلمان بھی تھے۔جب آپ صلی للہ ہم نے سورت ختم کی تو سورہ نجم پڑھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا۔اور آپ کے ساتھ ہی تمام مسلمان اور کافر بھی سجدے میں گر گئے۔کفار کے سجدے کی وجہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی علیہم نے نہایت پر اثر آواز میں آیات الہی کی تلاوت فرمائی اور وہ آیات بھی ایسی تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ خدا کی وحدانیت اور اس کی قدرت اور جبروت کا نہایت فصیح و بلیغ رنگ میں نقشہ کھینچا گیا تھا اور اس کے احسانات یاد دلائے گئے ہیں اور پھر ایک نہایت پر رعب اور پر جلال کلام میں قریش کو ڈرایا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان کا وہی حال ہو گا جو ان سے پہلی قوموں کا ہوا جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور پھر آخر میں ان آیات میں ہی حکم دیا گیا تھا کہ آؤ اور اللہ کے سامنے سجدے میں گر جاؤ۔اور ان آیات کی تلاوت کے بعد آنحضرت صلی علی کرم اور سب مسلمان یکلخت سجدے میں گر گئے تو اس کلام اور اس نظارے کا ایسا ساحرانہ اثر قریش پر ہوا، ان پر بھی بڑا اچھا، بڑا عجیب اثر ہوا کہ وہ بھی بے اختیار ہو کر