اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 490
تاب بدر جلد 4 490 رض آپ اپنے ایک خطبہ میں بیان فرماتے ہیں کہ " قتل کے معنی قطع تعلق کے بھی ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی یم کی وفات کے بعد جب صحابہ میں خلافت کے متعلق اختلاف پیدا ہوا۔انصار کا خیال تھا کہ خلافت ہمارا حق ہے ، ہم اہل بلد ہیں۔کم سے کم اگر ایک مہاجرین میں سے خلیفہ ہو تو ایک انصار میں سے و۔" یعنی دو دو ہوں۔"بنو ہاشم نے خیال کیا کہ خلافت ہمارا حق ہے۔رسولِ کریم صلی یہ کم ہمارے خاندان سے تھے۔اور مہاجرین گو یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ قریش سے ہونا چاہیے کیونکہ عرب لوگ سوائے قریش کے کسی کی بات ماننے والے نہ تھے مگر وہ کسی خاص شخص کو پیش نہ کرتے تھے بلکہ تعین کو انتخاب پر چھوڑنا چاہتے تھے " کہ انتخاب کر لیتے ہیں۔"مسلمان جسے منتخب کر لیں وہی خدا تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ سمجھا جائے گا۔جب انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا تو انصار اور بنو ہاشم سب ان سے متفق ہو گئے مگر ایک صحابی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی۔یہ وہ انصاری صحابی تھے جنہیں انصار اپنے میں سے خلیفہ بنانا چاہتے تھے اس لیے شاید انہوں نے اس بات کو اپنی ہتک سمجھایا یہ بات ہی ان کی سمجھ میں نہ آئی " جو بھی وجہ تھی اور انہوں نے کہہ دیا کہ میں ابو بکر کی بیعت کے لیے تیار نہیں ہوں۔حضرت عمر کا اس موقعے کے متعلق ایک قول بعض تاریخوں میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا اُفتلُوا سعدا۔یعنی سعد کو قتل کر دو لیکن نہ انہوں نے خود ان کو قتل کیا نہ کسی اور نے۔بعض ماہر زبان لکھتے ہیں کہ حضرت عمر کی مراد صرف یہ تھی کہ سعد سے قطع تعلق کر لو۔بعض تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت سعد با قاعدہ مسجد میں آتے اور الگ نماز پڑھ کر چلے جاتے تھے اور کوئی صحابی ان سے کلام نہ کرتا تھا۔پس قتل کی تعبیر قطع تعلق اور قوم سے جد اہونا بھی ہوتی ہے۔"1148 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سعد بن عبادہ کے واقعے کی مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں اور یہ پہلا اقتباس جو میں نے پڑھا ہے اس خطبے کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے پہلے ایک خطبے میں ایک انصاری صحابی کا ذکر کیا تھا کہ رسول کریم صلی ایم کی وفات کے بعد بعض انصار کی تحریک تھی کہ انصار میں سے خلیفہ مقرر کیا جائے لیکن جب مہاجرین نے اور خصوصاً حضرت ابو بکر نے صحابہ کو بتایا کہ اس قسم کا انتخاب کبھی بھی ملت اسلامیہ کے لیے مفید نہیں ہو سکتا اور یہ کہ مسلمان کبھی اس انتخاب پر راضی نہیں ہوں گے یعنی انصار کو منتخب کرنے یہ تو پھر انصار اور مہاجر اس بات پر جمع ہوئے، اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ کسی مہاجر کے ہاتھ پر بیعت کرلیں اور آخر حضرت ابو بکر کی ذات پر ان سب کا اتفاق ہوا۔انصار پر تو اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔حضرت ابو بکر نے وضاحت فرمائی اور بعض اور صحابہ نے وضاحت فرمائی کہ کیونکہ یہ مفید نہیں ہو گا۔بہر حال یہ فیصلہ ہوا کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہو اور پھر حضرت ابو بکر کی ذات پر ان سب کا اتفاق ہوا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت بتایا تھا کہ اُس وقت جب سعد نے بیعت سے تخلف کیا تھا، تھوڑا سا انقباض کیا تھا تو حضرت عمر نے کہا تھا کہ اُقْتُلُوا سغدًا۔یعنی سعد کو قتل کر دو مگر نہ تو انہوں نے سعد کو قتل کیا اور نہ کسی اور صحابی نے بلکہ وہ حضرت عمرؓ کی خلافت تک زندہ رہے۔حضرت سعد حضرت عمر کی خلافت تک زندہ رہے جیسا کہ پہلے اقتباس بیان ہو چکا ہے اور حضرت عمر کی خلافت میں شام میں فوت ہوئے۔انہوں نے ہجرت کر لی تھی اور شام میں فوت