اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 482

تاب بدر جلد 4 482 اپنے دلوں میں اس بات کو محسوس کیا۔اس کے متعلق ایک تفصیلی روایت مسند احمد بن حنبل میں اس طرح مذکور ہے کہ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی الم نے قریش اور دیگر قبائل عرب میں مال تقسیم فرمایا تو انصار کے حصے میں اس میں سے کچھ نہ آیا۔انصار نے اس کو محسوس کیا اور ان میں اس کے متعلق باتیں ہونے لگیں۔یہاں تک کہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ رسول اللہ صلی علی کی اپنی قوم سے جاملے ہیں، ہمیں بھول گئے۔مہاجروں کو دے دیا۔حضرت سعد بن عبادہ آنحضرت صلی علیہ یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! یہ قبیلہ یعنی انصار جو ہیں آپ کے متعلق اپنے نفسوں میں کچھ محسوس کر رہا ہے۔آپ نے جو اپنی قوم اور مختلف قبائل عرب میں مالِ ئے تقسیم کیا ہے اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہیں ملا۔آپ نے پوچھا اے سعد! اس معاملے میں تم کس طرف ہو ؟ تم اپنی بات کرو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں اور میری کیا حیثیت ہے۔آپ صلی علی یم نے فرمایا اپنی قوم کو اس احاطے میں اکٹھا کرو یعنی وہاں ایک بڑا احاطہ تھا، ایک جگہ تھی وہاں لے کے آؤ۔چنانچہ حضرت سعد نکلے اور انہوں نے انصار کو اس احاطے میں اکٹھا کر لیا۔کچھ مہاجرین بھی آگئے۔حضرت سعد نے انہیں اندر آنے دیا اور کچھ اور لوگ اندر آئے تو حضرت سعد نے انہیں روک دیا۔جب سب اکٹھے ہو گئے تو حضرت سعد نے آنحضرت صلی ی کمی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ انصار جمع ہو گئے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یکم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا۔اے گروہ انصار ! کیا باتیں ہیں جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچ رہی ہیں، کہ تمہیں اس بات پر کچھ ناراضگی ہے کہ تمہیں مال نہیں ملا۔کیا جب میں تمہارے پاس آیا تو تم گمراہی میں نہ پڑے ہوئے تھے کہ اللہ نے تمہیں ہدایت سے سرفراز فرمایا ؟ تم مالی تنگ دستی کا شکار نہ تھے کہ اللہ نے تمہیں مال دار بنا دیا ؟ تم ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے کہ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دی ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔اللہ اور اس کا رسول زیادہ احسان کرنے والا اور افضل ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ ! تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کو کیا جواب دیں جبکہ احسان اور فضل اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔آپ نے فرمایا بخدا اگر تم چاہتے تو یہ کہہ سکتے تھے اور تمہاری وہ بات سچی ہوتی اور تمہاری تصدیق بھی ہو جاتی کہ آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے تھے جب آپ کو جھٹلا دیا گیا تھا۔پس ہم نے آپ کی تصدیق کی اور آپ کو آپ کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا تو ہم نے آپ کی مدد کی۔آپ ہمارے پاس آئے کہ لوگوں نے آپ کو نکال دیا تھا تو ہم نے آپ کو پناہ دی۔آپ کو ہم نے ایک بڑے کنبے والا پایا تو ہم نے آپ کے ساتھ مواسات قائم کی۔اے انصار کے گروہ ! کیا تم نے دنیا کے حقیر سے مال پر دکھ محسوس کیا ہے ؟ پھر آپ نے یہ الفاظ فرمانے کے بعد کہا کہ تم یہ یہ جواب دے سکتے تھے۔پھر فرمایا کہ اے انصار کے گروہ ! کیا تم نے دنیا کے حقیر مال پر دکھ محسوس کیا ہے کہ میں نے تمہیں نہیں دیا اور ان کو دے دیا جو میں نے اس