اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 464
اصحاب بدر جلد 4 464 یہ اپنی مرضی سے کہیں جائے گی۔حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ کے نقیب تھے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا کہ جو نقیب مقرر کیے گئے تھے ان میں ان کا بھی نام تھا۔کہا جاتا ہے کہ قبیلہ اوس اور خزرج میں ایسا کوئی گھر نہ تھا جس میں چار شخص پے در پے فیاض ہوں۔بڑے کھلے دل کے ہوں سوائے ڈلیم کے ، پھر اس کے بیٹے عبادہ کے ، پھر اس کے بیٹے سعد کے ، پھر اس کے بیٹے قیس کے۔ڈلیم اور اس کے اہل خانہ کی سخاوت کے بارے میں بہت سی اچھی اچھی خبریں مشہور تھیں۔24 1094 1096 آنحضرت صلی الل علم کی خدمت میں پیش کیا جانے والا بڑا پیالہ جب رسول اللہ صلی ی تیم مدینہ تشریف لائے تو سعد آنحضرت علی الی یکم کی خدمت میں روزانہ ایک بڑا پیالہ بھیجتے جس میں گوشت اور شرید، گوشت میں پکے ہوئے روٹی کے ٹکڑے یا دودھ کا ثرید یا سر کے اور زیتون کا ثرید یا چربی کا پیالہ بھیجتے اور زیادہ تر گوشت کا پیالہ ہی ہو تا تھا۔سعد کا پیالہ رسول اللہ صلی الی یکیم کے ہمراہ آپ کی ازواج مطہرات کے گھروں میں چکر لگایا کرتا تھا۔095 یعنی یہ کھانا تھا جو مختلف ازواج کے لیے جایا کرتا تھا۔بعض روایات ایسی بھی ہیں کہ آنحضرت صلی علی ایم کے گھر ایسے دن بھی آتے تھے کہ کھانا نہیں ہو تا تھا۔ہو سکتا ہے کہ یہ روزانہ نہیں اکثر بھیجتے ہوں یا شروع میں بھیجتے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی ال اپنی سخاوت کی وجہ سے، غریبوں کے خیال کی وجہ سے بعض اوقات انہیں غرباء میں سیم کر دیتے ہوں، مہمانوں کو کھلا دیتے ہوں اس لیے اپنے گھر میں کچھ نہیں ہو تا تھا۔بہر حال ایک روایت اور ہے ، حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال کلیم نے جب حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں قیام فرمایا تو آپ کے ہاں کوئی ہدیہ نہیں آیا۔پہلا ہد یہ جو میں آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہو اتھا وہ ایک پیالہ تھا جس میں گندم کی روٹی کی شرید، گوشت اور دودھ تھا۔میں نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! یہ پیالہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا اللہ اس میں برکت ڈالے اور آپ نے اپنے صحابہ کو بلایا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھایا۔کہتے ہیں میں ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ سعد بن عبادہ بھی ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جسے ان کا غلام اپنے سر پر اٹھائے ہوئے تھا۔وہ کافی بڑا تھا۔میں حضرت ابوایوب کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔میں نے اس پیالے کا کپڑا اٹھایا تاکہ میں اسے دیکھوں تو میں نے شرید دیکھی جس میں ہڈیاں تھیں۔اس غلام نے وہ آنحضرت صلی علی کم کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت زید کہتے ہیں کہ ہم بنو مالک بن نجار کے گھروں میں رہتے تھے۔ہم میں سے تین یا چار افراد