اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 461
تاب بدر جلد 4 461 علیہم چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات، علیحدہ ملاقات کی ضرورت تھی اس لیے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گذشتہ سال والی گھاٹی میں آپ کو آکر ملیں تاکہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحدگی میں بات چیت ہو سکے اور آپ صلی الم نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک کر کے، دو دو کر کے وقتِ مقررہ پر گھائی میں پہنچ جائیں اور سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں۔جو موجود ہیں وہ آجائیں۔چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جا چکی تھی آنحضرت صلی علیہ یکم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لی جو ابھی تک مشرک تھے مگر آپ صلی اللہ کم سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھائی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے اور یہ ستر اشخاص تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب پہلے عباس نے ، آنحضرت صلی علیم کے چچانے ، گفتگو شروع کی کہ اے خزرج کے گروہ محمد صلی نام اپنے خاندان میں معزز و محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرہ کے وقت میں اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے مگر اب محمد کا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سواگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے ساتھ سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔البَراء بن مَعْرُور جو انصار کے قبیلہ کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے انہوں نے کہا کہ عباس ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ خود بھی اپنی زبانِ مبارک سے کچھ فرمائیں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرمائیں۔اس پر آنحضرت صلی ا ہم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔جب آپ تقریر ختم کر چکے تو البراء بن مغرور نے عرب کے دستور کے مطابق آپ صلی علی یکم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا یارسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ہم لوگ تلواروں کے سایہ میں پلے ہیں۔مگر انبھی وہ بات ختم نہیں کر پائے تھے کہ ابو الْهَيْقم بن تیہان نے ان کی بات کاٹ کر کہا کہ یارسول اللہ ! یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آئیں اور ہم نہ ادھر کے رہیں نہ اُدھر کے۔آپ صلی ہی کم ہنس پڑے اور آپ نے ہنس کے فرمایا نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔تمہارا خون میرا خون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست ہوں گے۔تمہارے دشمن میرے دشمن ہوں گے۔اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر