اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 457
457 اصحاب بدر جلد 4 میں، شخصی آزادی کے معاملہ میں ، دینی حقوق اور ذمہ داریوں میں الغرض دین و دنیا کے ہر اس میدان میں جس میں عورت قدم رکھ سکتی ہے آنحضرت صلی علی ایم نے اس کے تمام واجبی حقوق کو تسلیم کیا ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت کو اپنی امت کے لیے ایک مقدس امانت اور فرض کے طور پر قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عرب کی عورت آپ کی بعثت کو اپنے لیے ایک نجات کا پیغام سمجھتی تھی۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ مجھے اپنے رستہ سے ہٹنا پڑتا ہے یعنی مضمون جو بیان ہو رہا ہے اس سے پرے ہٹ رہا ہوں۔اگر میں اس کی مزید تفصیلات بیان کرتا تو ہٹنا پڑتا ورنہ میں بتاتا (کیونکہ یہ عورتوں کے حقوق کا مضمون نہیں بیان ہو رہا اس لیے بیان نہیں کر سکتا ) کہ عورت کے معاملہ میں آپ کی تعلیم حقیقتاً اس اعلیٰ مقام پر قائم ہے جس تک دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی تمدن نہیں پہنچا اور یقیناً آپ کا یہ پیارا قول ایک گہری صداقت پر مبنی ہے کہ محبّبَ إِلَى مِنْ دُنْيَا كُمُ النِّسَاء وَالطَّيِّبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوةِ یعنی دنیا کی چیزوں میں سے میری فطرت کو جن چیزوں کی محبت کا خمیر دیا گیا ہے وہ عورت اور خوشبو ہیں مگر میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز یعنی عبادت الہی میں رکھی گئی ہے۔077 آج کی دنیا عورت کے حقوق کی بات کرتی ہے اور چند سطحی باتوں کو اٹھا کر جن کا آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام نے جو پابندیاں لگائی ہیں وہ بھی عورت کی عزت قائم کرنے اور گھروں کے سکون اور اگلی نسل کی تربیت کے لیے رکھی ہیں ان پر اسلام پر اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کی آزادی اور حقوق دلوانے کی حقیقی تعلیم اسلام کی ہی ہے۔اللہ کرے کہ دنیا اس حقیقت کو سمجھ کر غلاظتوں اور فسادوں سے بچ سکے اور ہماری عورتیں بھی اس حقیقت کو سمجھیں۔بعض دفعہ دنیا کے پیچھے چل پڑتی ہیں کہ دنیا کی آزادی یہ ہے۔وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور جو مقام اسلام نے عورت کو دیا ہے اس کو سمجھیں کیونکہ وہ نہ کسی مذہب نے دیا ہے اور نہ ہی نام نہاد روشن خیال حقوق نسواں کے اداروں نے دیا ہے یا تحریک نے دیا ہے۔اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی اسلامی تعلیم کے مطابق توفیق عطا فرمائے تاکہ یہ معاشرہ پر امن معاشرہ ہو۔8 1078 135 حضرت سعد بن زید حضرت سعد بن زید الاشْهَلي ایک صحابی تھے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عبدُ الْأَشْهَل سے تھا۔غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔بعض کا خیال ہے کہ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے۔غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علی ایم کے ساتھ شریک ہوئے۔نبی کریم صلی لی ہم نے آپ