اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 451

451 134) صحاب بدر جلد 4 حضرت سعد بن ربیع جن کے بارہ میں رسول ملالی نے فرمایا: ”اللہ تعالی اس پر رحم فرمائے۔وہ زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کا خیر خواہ رہا۔“ نام و نسب حضرت سعد بن ربیع کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو حارث سے تھا۔آپ کے والد کا نام ربیع بن عمر و اور والدہ کا نام هُزَيْله بنتِ عِنَبَہ تھا۔حضرت سعد کی دو بیویاں تھیں ایک کا نام عمرہ بنت حزم اور دوسری کا نام حبیبہ بنت زید تھا۔حضرت سعد بن ربیع کی دو بیٹیاں تھیں۔ایک بیٹی اتم سعد تھیں ایک جگہ انہیں اُمّد سعید بھی لکھا گیا ہے ان کا اصل نام جمیلہ تھا۔1069 بیعت عقبہ اولیٰ و ثانیہ میں شامل حضرت سعد بن ربیع زمانہ جاہلیت میں بھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے جبکہ بہت کم لوگ یہ جانتے تھے۔حضرت سعد قبیلہ بنو حارث کے نقیب تھے۔ان کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی اسی قبیلہ کے نقیب تھے۔حضرت سعد بیعت عقبہ اولیٰ اور عقبہ ثانیہ میں شامل تھے۔مہاجر بھائی کے لئے تاریخی اور قابل رشک ایثار 1070 ہجرت مدینہ کے وقت آنحضور صلی ا لم نے حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے در میان مواخات قائم فرمائی۔صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی علیم نے مجھے اور سعد بن ربیع کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔تو سعد بن ربیع نے کہا میں انصار میں سے زیادہ مالدار ہوں۔سو میں تقسیم کر کے نصف مال آپ کو دے دیتا ہوں اور میری دو بیویوں میں سے جو آپ پسند کریں میں آپ کے لیے اس سے دستبردار ہو جاؤں گا۔جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے آپ نکاح کر لیں۔یہ سن کر حضرت عبد الرحمن نے حضرت سعد سے کہا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔تم صرف یہ بتاؤ یہاں کوئی بازار ہے جس میں تجارت ہوتی ہو ؟ حضرت سعد نے بتایا کہ قینقاع کا بازار ہے۔حضرت عبد الرحمن یہ معلوم کر کے صبح سویرے وہاں گئے اور پنیر اور کبھی لے آئے۔پھر اسی طرح ہر صبح وہاں بازار میں جاتے رہے۔ابھی کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ حضرت عبد الرحمن آئے اور ان پر زعفران کا نشان تھا تو رسول اللہ صلی علیکم نے پوچھا کیا وجہ ہے؟