اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 438
ب بدر جلد 4 438 حضرت سعد کی فتنوں سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی 1032 ایک روایت میں آتا ہے کہ فتنے کے زمانے میں ایک مرتبہ حضرت سعد کے صاحبزادے نے حضرت سعد سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے جہاد سے روکا ہے۔اس پر حضرت سعد نے جواب دیا کہ میں تب تک نہیں لڑوں گا یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار لا کر دو جو مومن اور کافر کو پہچانتی ہو۔اب تو مسلمان مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں۔ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد نے فرمایا کہ ایسی تلوار لاؤ جس کی آنکھیں، ہونٹ اور زبان ہوں اور جو مجھے بتائے کہ فلاں شخص مومن ہے اور فلاں شخص کافر ہے۔32 اب تک تو میں صرف کافروں کے خلاف لڑا ہوں۔سنن ترمذی کی ایک روایت میں بیان ہے کہ حضرت سعد نے حضرت عثمان کے زمانے میں شروع ہونے والے فتنوں کے بارے میں فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہے کہ ضرور آئندہ زمانے میں ایک فتنہ ہو گا اور اس میں بیٹھا ر ہنے والا کھڑے ہونے والے شخص سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا شخص چلنے والے شخص سے بہتر ہو گا اور چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔یعنی کہ ہر لحاظ سے کسی طرح بھی اس فتنے میں شامل نہیں ہو نا بلکہ بیچنے کی کوشش کرنی ہے، تو بہر حال کسی نے پوچھا کہ اگر فتنہ میرے گھر میں داخل ہو جائے تو میں کیا کروں۔فرمایا کہ تو ابن آدم کی طرح ہو جانا۔یعنی جیسے قرآن شریف میں اس ابن آدم کا ذکر ہے کہ اپنا بچاؤ تو کرو لیکن ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے لڑائی نہیں کرنی اور یہی واقعہ ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔اس سے یہی لگتا ہے کہ وہی مثال آپ نے دی تھی۔حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں جب فتنوں کا آغاز ہوا تو اس فتنے کو فرو کرنے میں صحابہ کی مساعی جمیلہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ گو صحابہ کو اب حضرت عثمان کے پاس جمع ہونے کا موقع نہ دیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہ تھے۔مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے و حصوں میں اپنا کام تقسیم کیا ہوا تھا جو سن رسیدہ بوڑھے تھے اور جن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھاوہ تو اپنے اوقات کو لوگوں کو سمجھانے پر صرف کرتے اور جو لوگ ایسا کوئی اثر نہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ ”اول الذکر جماعت میں سے حضرت علی اور حضرت سعد بن ابی وقاص فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔“ رو 1034 حضرت سعد کا امیر معاویہ کو جواب 1033 حضرت عثمان کے بعد حضرت علی کی خلافت میں بھی حضرت سعد گوشہ نشین ہی رہے۔ایک روایت کے مطابق جب حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان اختلاف بڑھا تو امیر معاویہ نے تین صحابہ