اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 437
تاب بدر جلد 4 437 1028 مشق بنا۔اس کے بعد جب کوئی اس شخص کا حال پوچھتا جس نے الزام لگایا تھا تو وہ کہتا پیر فرتوت ہوں۔بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔بُری حالت ہے۔مصیبت زدہ ہوں اور حضرت سعد کی بددعا مجھے لگ گئی ہے یعنی لوگوں نے جھوٹا الزام لگوایا تھا۔اس کا نتیجہ بھگت رہا ہوں۔عبد الملک کہتے تھے کہ میں نے اس کے بعد اسے دیکھا ہے۔حالت یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی بھنویں اس کی دونوں آنکھوں پر آپڑی تھیں اور تعجب ہے کہ اس کے باوجود اس کی اخلاقی حالت کا یہ حال تھا کہ وہ راستوں میں چھو کر یوں کو چھیڑ تا اور چشمک کرتا تھا۔بخاری میں یہ سارا واقعہ درج ہے۔بہر حال ان شکایات کا حضرت سعد کو بہت دکھ ہوا اور آپ نے کہا عربوں میں سے میں پہلا ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور ہم نبی کریم صلی املی کام کے ساتھ جنگ کے لیے نکلتے اور حالت یہ تھی کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی سوائے درختوں کے پتے ہی۔ہمارا یہ حال تھا کہ ہم میں سے ہر ایک اس طرح مینگنیاں کرتا جیسے اونٹ لید کرتے ہیں یا بکریاں مینگنیاں کرتی ہیں یعنی خشک۔اور اب یہ حال ہے کہ بنو اسد ابن خُذیمہ مجھ کو آداب اسلام سکھاتے ہیں۔تب تو میں بالکل نامر اور ہا اور میرا عمل ضائع ہو گیا اور بنو اسد کے لوگوں نے حضرت عمرؓ کے پاس چغلی کھائی تھی اور کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا۔یہ بھی بخاری کی ہے۔حضرت سعد کا خلافت کمیٹی کا ممبر ہونا 1029 123 ہجری میں جب حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو حضرت عمررؓ سے لوگوں نے عرض کی کہ آپ خلافت کے لیے کسی کو نامزد کریں۔اس پر حضرت عمر نے انتخاب خلافت کے لیے ایک بورڈ مقرر کیا جس میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ان میں سے کسی ایک کو چن لینا کیونکہ رسول اللہ صلی لینکم نے انہیں اہل جنت قرار دیا ہے۔پھر فرمایا کہ اگر خلافت سعد بن ابی وقاص کو مل گئی تو وہی خلیفہ ہوں ورنہ جو بھی تم میں سے خلیفہ ہو وہ سعد سے مدد لیتا رہے کیونکہ میں نے انہیں اس لیے معزول نہیں کیا کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لیے کہ انہوں نے کوئی خیانت کی تھی۔1030 جب حضرت عثمان خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے حضرت سعد کو دوبارہ کوفے کا والی بنا دیا۔آپ تین سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد کسی وجہ سے حضرت سعد کا حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے اختلاف ہو ا جو اس وقت بیت المال کے انچارج تھے جس کی وجہ سے حضرت عثمان نے انہیں ( حضرت سعد کو معزول کر دیا۔معزول ہونے کے بعد حضرت سعد نے مدینے میں گوشہ نشینی اختیار کرلی۔جب حضرت عثمان کے خلاف فتنہ و فساد شروع ہوا تب بھی آپ گوشہ نشین ہی رہے۔1031