اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 425
اصحاب بدر جلد 4 425 1010 ایک روایت میں ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت سعد نے ایک ہزار تیر برسائے۔صلح حدیبیہ کے موقعے پر صلح نامہ پر جن صحابہ نے بطور گواہ دستخط کیے ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص بھی شامل تھے۔1011 فتح مکہ کے موقعے پر حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس مہاجرین کے تین جھنڈوں میں سے ایک جھنڈ ا تھا۔1012 حضرت سعد کی بیماری اور نبی سلام کی دعا حجةُ الْوَدَاع کے موقعے پر حضرت سعد بیمار ہو گئے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں بیمار ہو گیا اور موت کے قریب پہنچ گیا۔رسول اللہ صلی اللہ تم میری عیادت کرنے میرے پاس تشریف لائے۔میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری وارث میری صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں ؟ آپ صلی علیم نے فرمایا نہیں۔میں نے عرض کیا پھر نصف مال صدقہ کر دوں ؟ آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا نہیں۔میں نے عرض کی پھر ایک تہائی مال صدقہ کر دوں ؟ آپ صلی علیم نے فرمایا ٹھیک ہے مگر یہ بھی بہت زیادہ ہے۔پھر فرمایا کہ اگر تم اپنی اولاد کو مال دار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں تنگ دست چھوڑ دو کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں اور جو بھی تم خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر ملے گا یہاں تک کہ اس لقھے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا ؟ آپ صلی الی یکم نے فرمایا اگر تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم اللہ کی رضامندی کے لیے گرو گے اس سے تمہارا درجہ اور مرتبہ بلند ہو گا اور ساتھ یہ بھی اظہار فرما دیا کہ مجھے امید ہے تم میرے بعد زندہ رہو گے یہاں تک کہ قومیں تم سے فائدہ اٹھائیں گی اور کچھ لوگ نقصان اٹھائیں گے۔1013 ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی علی کریم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت پوری فرما اور ان کو ان کی ایڑھیوں کے بل نہ لوٹانا۔1014 ایک تہائی مال کی وصیت ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ جب میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی می کنم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور پوچھا کیا تم نے وصیت کر دی ہے۔میں نے عرض کی جی۔آپ نے پوچھا کتنی ؟ میں نے عرض کی میرا سارا مال اللہ کی راہ میں۔آپ مئی میں ہم نے پوچھا تو اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کی وہ مال دار ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا۔پھر دسویں حصے کی وصیت کر دو۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں اسی طرح کہتا رہا اور آپ اسی طرح فرماتے رہے۔حضرت سعد زیادہ مال صدقہ کرنا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی علی کم کم کرنے کی تلقین فرما رہے تھے یہاں تک کہ