اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 424

تاب بدر جلد 4 424 حضرت سعد بن ابی وقاص کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کو آنحضرت صلی علیہ کی خود تیر پکڑاتے جاتے تھے اور حضرت سعد یہ تیر دشمن پر بے تحاشا چلاتے جاتے تھے۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی علی کریم نے حضرت سعد سے فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں برابر تیر چلاتے جاؤ۔سعد اپنی آخری عمر تک ان الفاظ کو نہایت فخر کے ساتھ بیان 1003❝ کیا کرتے تھے۔ایک روایت میں بیان ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا ہم نے جنگ احد کے دن اپنے ترکش سے تیر نکال کر میرے لیے بکھیر دیے اور آپ نے فرمایا تیر چلاؤ تجھ پر میرے 1004 ماں باپ فداہوں۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے علاوہ رسول اللہ صلی لی ہم کو کبھی کسی کے لیے اپنے ماں باپ فدا کرنے کی دعا دیتے نہیں سنا۔آپ صلی للی کم نے حضرت سعد سے غزوہ احد کے موقعے پر فرمایا تھا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تیر چلاتے جاؤ۔اے بھر پور طاقتور نوجوان ! تیر چلاتے جاؤ۔1005 1006 یہاں یہ بیان بھی قابل ذکر ہے، یہ نوٹ بھی آیا ہوا ہے کہ حضرت سعد کے علاوہ تاریخ میں حضرت زبیر بن عوام کا نام بھی ملتا ہے جنہیں آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ فِدَاكَ آبي واننی یعنی تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔یہ بخاری کی روایت ہے۔غزوہ اُحد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ اُحد کے دن نبی کریم صلی ا ہم نے ان کے لیے اپنے والدین کو اکٹھا کیا۔انہوں نے کہا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا جس نے مسلمانوں میں آگ لگار تھی تھی۔نبی صلی اللہ تم نے ان یعنی حضرت سعد سے فرمایا تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے وہ تیر جس کا پھل نہیں تھا اس کے پہلو میں مارا جس کی وجہ سے الله سة وہ مر گیا اور اس کا ستر کھل گیا اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی الی کی خوشی سے ہنس پڑے۔1007 ایک دوسری روایت میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ اس مشرک نے ( تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام جبان بتایا جاتا ہے ) ایک تیر چلایا جو حضرت ام ایمن کے دامن میں جالگا جبکہ وہ زخمیوں کو پانی پلانے میں مصروف تھیں۔اس پر جہان ہنسنے لگا۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت سعد کو ایک تیر پیش کیا وہ تیر جبان کے حلق میں جالگا اور وہ پیچھے گر پڑا جس سے اس کا ننگ ظاہر ہو گیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللی یکم مسکرا 1008 صحیح مسلم کی جو یہ حدیث بیان ہوئی ہے اس کے متعلق وہاں جو ہماری نور فاؤنڈیشن ہے انہوں نے ابھی جو ترجمہ کیا ہے اس میں یہ نوٹ لکھا ہے اور اچھا نوٹ ہے کہ نبی کریم صلی علی یم کو یہ خوشی اللہ کے اس احسان پر تھی کہ اس نے ایک خطرناک دشمن کو ایک ایسے تیر سے راستے سے ہٹایا جس کا پھل بھی نہیں تھا۔1009