اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 28
اصحاب بدر جلد 4 28 فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ماں اور اس کے بیٹے کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈال دے گا۔76 پس یہ جو بعض لوگ ماؤں سے بچے چھین لیتے ہیں ان کے لیے بھی اس میں سبق ہے۔پھر یہ اسلام پر اعتراض کرنے والے دیکھیں کہ وہ خود کیا کرتے ہیں۔اسلام تو اس حد تک خیال رکھتا ہے۔اب گذشتہ دنوں امریکہ کی ہی خبریں تھیں کہ وہاں بھی جو امیگر سینٹس (immigrants) آئے ہوئے تھے ان مہاجرین کو علیحدہ علیحدہ انہوں نے رکھ دیا۔ماؤں کو علیحدہ، بچوں کو علیحدہ کیا اور بعض بچے کچھ عرصے کے بعد ماؤں کو پہچان بھی نہیں سکے۔بہر حال اسلام اس حد تک تلقین کرتا ہے کہ ماؤں کو بچوں سے جدا نہ کرو۔ایک دوسرے کو اس وجہ سے تکلیف نہ دو۔نماز مغرب میں تاخیر نہ کرنے کی نصیحت حضرت مرقد بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو ایوب انصاری ہمارے پاس جہاد کی غرض سے آئے تو ان دنوں حضرت عقبہ بن عامر مصر کے والی تھے۔انہوں نے مغرب کی نماز میں تاخیر کی۔حضرت ابوایوب ان کے پاس گئے اور کہا اے عقبہ یہ کیسی نماز ہے ؟ حضرت عقبہ نے جواب دیا ہم مصروف تھے۔حضرت ابو ایوب نے کہا اللہ کی قسم امیری صرف یہ غرض ہے کہ لوگ یہ نہ گمان کریں کہ تم نے رسول اللہ صلی ا ہم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔کیا تم نے رسول اللہ صلی علی یم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر باقی رہے گی یا یہ فرمایا کہ فطرت پر قائم رہے گی جب تک وہ مغرب میں تاخیر نہ کریں یہاں تک کہ ستارے چمکنے لگیں۔77 یعنی پہلے وقت میں مغرب کی نماز پڑھنی چاہیے۔ناخن تراشنے کی تلقین ابو واصل سے مروی ہے کہ میں حضرت ابو ایوب انصاری سے ملا۔انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور دیکھا کہ میرے ناخن بہت لمبے ہیں تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تم میں سے کوئی آسمان کی خبروں کے متعلق سوال کرتا ہے اور وہ اپنے ناخن اس طرح لمبے رکھتا ہے جیسے پرندوں کے ناخن ہوتے ہیں۔ان میں جنابت اور گندگی اور میل کچیل اکٹھی ہو جاتی ہے۔یعنی با تیں تو تم لوگ بڑی اونچی اونچی پوچھتے ہو ، معرفت کی کرتے ہو لیکن تمہاری اپنی حالت یہ ہے کہ ناخن تمہارے لمبے ہیں اور ان میں گند اکٹھا ہو جاتا ہے اس لیے ناخن کاٹ کے رکھا کرو۔مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث ہے۔78