اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 423
تاب بدر جلد 4 423 بہت ہیں مگر پوری تعداد مجھے معلوم نہیں ہے۔آپ نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ ان کے لیے ہر روز کتنے اونٹ ذبح ہوتے ہیں۔اس نے کہا دس ہوتے ہیں۔آپ صلی ہم نے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس لشکر میں ایک ہز ار آدمی معلوم ہوتے ہیں اور حقیقت وہ اتنے ہی تھے۔998 فارس الاسلام۔۔۔۔۔اسلام کاشہ سوار 999 یہ حصہ بھی شاید کچھ تفصیل سے میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔غزوہ بدر کے موقعے پر حضرت سعد کی بہادری کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ غزوہ بدر کے موقعے پر حضرت سعد پیدل ہونے کے باوجو دشہ سواروں کی طرح بہادری سے لڑ رہے تھے۔اسی وجہ سے حضرت سعد گو فارس الاسلام" کہا جاتا تھا یعنی اسلام کا شہ سوار۔غزوہ احد کے موقعے پر حضرت سعد بن ابی وقاص اُن گنتی کے چند لوگوں میں سے تھے جو سخت افرا تفری کی حالت میں رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس ثابت قدم رہے۔1001 1000 اے بندہ خدا ! تیرا کیا جان دینے کا ارادہ ہے؟ غزوۂ احد کے موقعے پر حضرت سعد بن ابی وقاص کا بھائی عقبہ بن ابی وقاص مشرکین کی طرف سے جنگ میں شریک ہوا تھا اور اس نے رسول اللہ صلی علیہ ظلم پر حملہ بھی کیا تھا۔اس واقعہ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اپنی ایک تقریر میں اس طرح بیان فرمایا تھا کہ : عتبہ وہ بد بخت انسان تھا جس نے شدید حملہ کر کے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی علی ایم کے نیچے کے دو دندانِ مبارک شہید کیے اور دہن مبارک کو سخت زخمی کر دیا۔عتبہ کے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص مسلمانوں کی طرف سے لڑرہے تھے۔جب ان کو عتبہ کی بد بختی کا علم ہوا تو جوش انتقام سے ان کا سینہ کھولنے لگا۔آپ فرماتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی کے قتل پر ایسا حریص ہورہاتھا کہ شاید کبھی کسی اور چیز کی مجھے ایسی حرص نہ لگی ہو۔دو مر تبہ دشمن کی صفوں کا سینہ چیر کر اس ظالم کی تلاش میں نکلا کہ اپنے ہاتھ سے اس کے ٹکڑے اڑا کر اپنا سینہ ٹھنڈا کروں مگر وہ مجھے دیکھ کر ہمیشہ اس طرح کترا کر نکل جاتا تھا جس طرح لومڑی کترا جایا کرتی ہے۔آخر جب میں نے تیسری مرتبہ اس طرح گھس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی للی نم نے از راہ شفقت مجھ سے فرمایا کہ اے بندہ خدا! تیرا کیا جان دینے کا ارادہ ہے ؟ چنانچہ میں حضور صلی اللہ نام کے روکنے سے اس ارادے سے باز رہا۔1002 رسول اللہ صل للہ ﷺ کا فرمانا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں برابر تیر چلاتے جاؤ! غزوۂ احد کے موقعے پر جب رسول اللہ صلی علیکم کے پاس ثابت قدم صحابہ تھوڑے رہ گئے اس وقت