اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 420
اصحاب بدر جلد 4 سے 420 994 حضرت سعد وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں خون بہایا اور آپ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور یہ واقعہ سر یہ حضرت عبیدہ بن حارث کا ہے۔4 اس کی تفصیل یہ یہ ہے کہ ربیع الاول سن دو ہجری میں ایک سر یہ ہوا جسے سر یہ حضرت عبیدہ بن حارث کہتے ہیں۔اس کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے، یہ پہلے بھی کچھ حصہ بلکہ میرا خیال ہے سارا میں بیان کر چکا ہوں لیکن بہر حال یہاں بھی ان کے حوالے سے بیان کر دیتا ہوں۔ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ صلی علیہم نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عُبَيْدَة بن حَارِث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار یا اونٹ سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ کیا۔اس مہم کی غرض قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔چنانچہ جب عبیدہ بن حارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثَنِيَّةُ الْمَرَّةُ (فَنِيَّةُ الْمَرَّةُ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔رسول اللہ صلی یی کم مدینہ ہجرت کرتے ہوئے اس مقام سے گزرے تھے۔بہر حال جب یہ اس) مقام کے پاس پہنچے تو نا گاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے 200 مسلح نوجوان عِكْرِمَه بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گر وہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی نہ ہو ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے 2 شخص حضرت مقداد بن عمرو اور حضرت عُتبہ بن غزوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقع پاکر مسلمانوں میں آملیں۔کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔؟ جمادی الاولی 2 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ نیلم نے سعد بن ابی وقاص کو آٹھ مہاجرین کے ایک دستہ پر امیر مقرر فرما کر قریش کی خبر رسانی کے لیے خراز مقام کی طرف روانہ فرمایا۔خرارُ بھی حجاز میں مخفّه کے قریب ایک علاقہ ہے۔بہر حال یہ لوگ وہاں گئے مگر دشمن سے ان کا سامنا نہیں ہوا۔996 پھر سر یہ حضرت عبد اللہ بن جحش کا ذکر ہے جو جمادی الآخر دو ہجری میں ہوا تھا۔اس سریے میں حضرت سعد" بھی شامل ہوئے تھے اور اس کا بھی ذکر میں پہلے ایک دفعہ کر چکا ہوں لیکن سیرت خاتم النبیین کے حوالے سے یہاں مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔آنحضرت صلی علی کرم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات و سکنات کا زیادہ قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جاوے تاکہ ان کے متعلق ہر قسم کی ضروری اطلاع بر وقت میسر ہو جاوے اور مدینہ ہر قسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔چنانچہ اس غرض سے آپ صلی ہم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش 995