اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 27
بدر جلد 4 27 ہم نے کہا کہ اگر اب ہم اپنے مالوں کی حفاظت کریں اور اسے جمع کریں تو یہ اچھا ہو گا۔اس وقت یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اپنے اموال خرچ کرنے سے دریغ نہ کرو کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہو۔پس اپنے مالوں کو جمع نہ کرو بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خوب خرچ کرو ورنہ تمہاری جانیں ضائع چلی جائیں گی۔دشمن تم پر چڑھ آئیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔73 مصر کا سفر حضرت علی کے بعد امیر معاویہ کی حکومت کا زمانہ آیا۔عُقبہ بن عامر جُهَنِی ان کی طرف سے مصر کے گورنر تھے۔حضرت عقبہ کے عہد امارت میں حضرت ابو ایوب کو دو مر تبہ سفر مصر کا اتفاق ہوا۔پہلا سفر طلب حدیث کے لیے تھا، انہیں معلوم ہو ا تھا کہ حضرت عقبہ کسی خاص حدیث کی روایت کرتے ہیں۔صرف ایک حدیث کے لیے حضرت ابو ایوب نے بڑھاپے میں سفر کی زحمت گوارا کی۔دوسری مرتبہ غزوہ روم میں شرکت کے ارادے سے مصر تشریف لے گئے۔الله 74 نبی صلی الله ولم سے اظہار عشق مروان جب مدینہ کا گورنر تھا۔وہ ایک روز آیا تو اس نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنا چہرہ نبی کریم ملی کم کی قبر پر لگایا ہوا تھا۔مروان نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ یہ شرک ہے۔جھکے ہوئے سجدہ کر رہے ہو۔پھر مروان اس شخص کے پاس آیا تو کیا دیکھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ! میں رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس آیا ہوں۔ان پتھروں کے پاس نہیں آیا۔75 یہاں مطلب یہ تھا کہ میں اس محبت و عشق کی وجہ سے جھکا ہوا ہوں۔پتھروں کو سجدہ نہیں کر رہا۔نہ میں کوئی شرک کر رہا ہوں بلکہ یہ محبت کا اظہار ہے اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میرے دل میں ہے۔شرک نہیں ہے۔جس نے ماں اور اس کے بیٹے کے درمیان جدائی ڈالی تو۔۔۔ابو عبد الرحمن خیلی سے مروی ہے کہ ہم سمندر میں تھے اور ہم پر عبد اللہ بن قیس فزاری امیر تھا اور ہمارے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری بھی تھے۔وہ اموالِ غنیمت تقسیم کرنے والے کے پاس سے گزرے جو قیدیوں کی نگرانی کر رہا تھا۔حضرت ابوایوب انصاری کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت رو رہی ہے۔انہوں نے پوچھا اس عورت کو کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ اس عورت کو اور اس کے بیٹے کو الگ کر دیا گیا ہے۔راوی کہتے ہیں اس پر انہوں نے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اسے اس کی ماں کے ہاتھ میں دے دیا۔اس کے بعد اموال غنیمت تقسیم کرنے والا عبد اللہ بن قیس کے پاس گیا اور انہیں یہ سب بتایا تو انہوں نے حضرت ابو ایوب کو بلا بھیجا اور پوچھا آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی علی یکم کو