اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 407
صحاب بدر جلد 4 407 الله سة خاموش ہو گئے۔ایک دوسرے آدمی نے جن کا قد طویل تھا اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو خالد نے ان سے بھی جھگڑا کیا۔دونوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔اس پر حضرت عمر بن خطاب نے کہا یا رسول اللہ ! میں ان دونوں کا جانتا ہوں۔ایک میرا بیٹا عبد اللہ ہے اور دوسرے سَالِم مولی آبی حُذَيْفَہ ہیں۔ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی الم نے حضرت علی کو بلا کر فرمایا کہ ان لوگوں کی طرف جاؤ اور اور معاملہ دیکھو کہ کیا معاملہ ہوا ہے ؟ کیوں ایسا ہوا ہے ؟ اور جاہلیت والے معاملے کو اپنے قدموں تلے مسل دو۔یہ بالکل جہالت کی باتیں ہوئی ہیں۔اس کو بالکل ختم کر دو۔چنانچہ حضرت علی اس مال کو لے کر گئے جو رسول اللہ صلی الی مریم نے انہیں دیا تھا۔حضرت علی کو صرف بھیجا نہیں بلکہ بہت سامال ساتھ دے کر بھیجا تھا اور آپ نے ان لوگوں کا جو بھی جانی اور مالی نقصان ہوا تھا اس کی دیت ادا کی۔مال اس لیے بھیجا تھا کہ غلط طریقے سے جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اس کی دیت ادا کی جائے۔اس کے بعد بھی حضرت علی کے پاس کچھ مال بیچ رہا تو آپ نے ان لوگوں سے پوچھا کیا کسی جانی اور مالی نقصان کی دیت ادا ہو نا رہ گئی ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔بڑے انصاف سے سب کچھ ہو گیا۔کچھ نہیں رہا۔اس پر حضرت علی نے کہا کہ میں پھر بھی اس احتیاط کے ماتحت جو رسول اللہ صلی علی یم کو رہتی ہے یہ مال تمہیں دے دیتا ہوں کیونکہ جو وہ جانتے ہیں وہ تم لوگ نہیں جانتے۔چنانچہ آپ ان کو یہ مال دے کر رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں لوٹے اور آپ کو اس کی اطلاع دے دی کہ اس طرح میں کر آیا ہوں۔آنحضور صلی ا ہم نے فرمایا کہ تم نے بخوبی اس کام کو انجام دیا ہے۔پھر آپ نے قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا کی کہ اللهُمَّ إِنِّي ابْرَأُ إِلَيْكَ بِمَا صَنَعَ خَالِدُ ابْنُ وَلِید کہ اے اللہ ! میں اس سے جو خالد بن ولید نے کیا ہے تیرے حضور براءت کا اظہار کرتا ہوں۔5 یہ بڑا غلط کام ہوا ہے۔پس اپنوں نے بھی اگر کوئی ظلم کیا ہے یا غلطی کی ہے تو آنحضرت صل للہ ہم نے نہ صرف اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور روکا بلکہ اس کا مداوا بھی کیا۔ان کو دیت بھی ادا کی اور مظلوم کی تسکین کے سامان بہم پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔باوجود اس کے کہ وہ لوگ دشمن بھی تھے جنہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے لیکن آپ نے پسند نہیں کیا کہ اس طرح ہو۔یہ تھا آپ کے انصاف کا معیار۔جھنڈے کی دلیرانہ حفاظت 945 ابراہیم بن حنظلہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے روز حضرت سَالِم مولی ابی حذیفہ سے کہا گیا کہ آپ جھنڈے کی حفاظت کریں جبکہ بعض نے کہا کہ ہمیں آپ کی جان کا ڈر ہے۔اس لیے ہم آپ کے علاوہ کسی اور کے سپر د جھنڈا کرتے ہیں۔اس پر حضرت سالم نے کہا تب تو میں بہت برا حامل قرآن ہوں۔یعنی مجھے تو قرآن کریم کا بڑا علم ہے اور اس علم رکھنے کے باوجود اگر میں اس پر عمل نہیں ہے یا یہ جان کے کرنے کا کا ہم یہ بہت بری عمر ہی کے عرق سے ایک اہم فریضہ جو کے کے قرآن ہے اس سے والا بنوں تو قرآن کا پھر کیا فائدہ ؟ بہر حال