اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 386

تاب بدر جلد 4 386 تو بعض روایات کے مطابق رسول کریم صلی اغلی یم نے حضرت زید بن حارثہ کو مدینہ کا امیر مقرر کیا۔غزوہ خندق کے دن مہاجرین کا جھنڈا بھی حضرت زید بن حارثہ کے پاس تھا۔893 سریہ بنو سلیم 892 حضرت زید بن حارثہؓ کے ذکر میں بعض مزید واقعات اور حوالے ہیں جنہیں آج میں پیش کروں گا۔حضرت زید بن حارثہ ایک سر یہ جو ربیع الآخر سن 6 ہجری میں بنو سلیم کی طرف بھیجا گیا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ماہ ربیع الآخر 6 ہجری میں آنحضرت صلی علیم نے اپنے آزاد کردہ غلام اور سابق مثبتی زید بن حارثہ کی امارت میں چند مسلمانوں کو قبیلہ بنی شلیم کی طرف روانہ فرمایا۔یہ قبیلہ اس وقت مجد کے علاقے میں بمقام جموم آباد تھا اور ایک عرصہ سے آنحضرت صلی یی کم کے خلاف بر سر پیکار چلا آتا تھا، سازشیں کرتا رہتا تھا، جنگوں کی کوشش کرتا تھا۔چنانچہ غزوہ خندق میں بھی اس قبیلہ نے مسلمانوں کے خلاف نمایاں حصہ لیا تھا۔جب زید بن حارثہ اور ان کے ساتھی جموم میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر تھا تو وہاں کوئی نہیں تھا، خالی جگہ دیکھی مگر انہیں قبیلہ مدینہ کی ایک عورت حلیمہ نامی جو مخالفین اسلام میں سے تھی اس نے اس جگہ کا پتہ بتادیا جہاں اس وقت قبیلہ بنو سلیم کا ایک حصہ اپنے جانور ، مویشی چرارہا تھا۔چنانچہ اسی اطلاع سے فائدہ اٹھا کر زید بن حارثہؓ نے اس جگہ پر چھاپا مارا اور اس اچانک حملہ سے گھبرا کر اکثر لوگ تو ادھر اُدھر بھاگ کر منتشر ہوگئے مگر چند قیدی اور مویشی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے جنہیں وہ لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹے۔اتفاق سے ان قیدیوں میں حلیمہ کا خاوند بھی تھا اور گو کہ وہ جنگی مخالف تھا آنحضرت صلی ال کلم نے حلیمہ کی اس امداد کی وجہ سے نہ صرف حلیمہ کو بلا فدیہ آزاد کر دیا بلکہ اس کے خاوند کو بھی احسان کے طور پر چھوڑ دیا اور حلیمہ اور اس کا خاوند خوشی خوشی اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔894 سریہ عیص حضرت زید بن حارثہؓ کے ایک اور سریہ ، جو جمادی الاولیٰ سن چھ ہجری میں عیص مقام کی طرف بھیجا گیا تھا، اس کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ زید بن حارثہ کو اس مہم یعنی بنوسکیم کی طرف جو سریہ گیا تھا اس سے واپس آئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ آنحضرت صلی ا لم نے جمادی الاولیٰ کے مہینہ میں انہیں ایک سو ستر صحابہ کی کمان میں پھر مدینہ سے روانہ فرمایا اور اس مہم کی وجہ اہل سیر نے یہ لکھی ہے کہ شام کی طرف سے قریش مکہ کا ایک قافلہ آرہا تھا اور اس کی روک تھام کے لیے آنحضرت صلی للی کم نے اس دستہ کو روانہ فرمایا تھا۔یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ قریش کے قافلے عموماًہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور مکہ اور شام کے