اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 384
ب بدر جلد 4 384 پاس عُشيرة مقام تک پہنچے۔گو قریش سے وہاں مقابلہ نہیں ہوا لیکن وہاں قبیلہ بنو مدلج کے ساتھ بعض شرائط پر آپس میں امن کا معاہدہ ہوا اور اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لے آئے۔تو عشيرة سمندر کے کنارے مقام تھا۔وہاں آپ خبر سن کے گئے تھے کہ کافر وہاں جمع ہو رہے ہیں اور شاید فوج اکٹھی ہو رہی ہے تو آپ نے سوچا کہ وہیں باہر نکل کے ان کا مقابلہ کیا جائے لیکن بہر حال جنگ نہیں ہوئی اور اس سفر کا یہ فائدہ ہوا کہ ایک قبیلے سے آپ کا امن کا معاہدہ ہو گیا۔187 غزوہ اور سریہ میں فرق غزوہ اور شیریہ کے بارے میں بھی یہ وضاحت کر دوں۔بعضوں کو نہیں پتا ہو گا کہ غزوہ اسے کہتے ہیں جس مہم میں آنحضرت صلی علیہ کام شامل ہوئے اور سیریہ یا بعث اسے کہتے ہیں جس میں آپ شامل نہیں ہوئے۔غزوہ اور تیریہ دونوں میں یہ بھی واضح ہو جائے کہ تلوار کے جہاد کے لیے نکلناضروری نہیں ہے بلکہ ہر وہ سفر جس میں آپ صلی ی ی یکم جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں وہ غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت سے لڑنے کی خاطر نہ بھی کیا گیا ہو لیکن بعد میں مجبوری سے جنگ کرنی پڑی ہو۔اسی طرح سریہ بھی ہے۔پس ہر غزوہ اور سیریہ لڑائی کی مہم کا ہی نہیں ہوتا۔غزوہ عشیرہ میں بھی جیسا کہ بیان ہوا کوئی جنگ نہیں ہوئی۔888 بدر کی فتح کی بشارت مدینہ کی طرف لے جانے والے جب جنگ بدر ختم ہو گئی تو " بدر سے روانہ ہوتے وقت آنحضرت صلی لیم نے زید بن حارثہ کو مدینہ کی طرف روانہ فرمایا تا کہ وہ آگے آگے جاکر اہل مدینہ کو فتح کی خوشخبری پہنچاویں۔چنانچہ انہوں نے آپ سے پہلے پہنچ کر مدینہ والوں کو فتح کی خبر پہنچائی جس سے مدینہ کے صحابہ کو اگر ایک طرف اسلام کی عظیم الشان فتح ہونے کے لحاظ سے کمال درجہ خوشی ہوئی تو اس لحاظ سے کسی قدر افسوس بھی ہوا کہ اس الشان جہاد کے ثواب سے وہ خود محروم رہے۔اس خوشخبری نے اس غم کو بھی غلط کر دیا جو زید بن حارث کی آمد سے تھوڑی دیر قبل مسلمانان مدینہ کو عموماً اور حضرت عثمان کو خصوصاً رقیہ بنت رسول للہ صلی للی کمی کی وفات سے پہنچا تھا جن کو آنحضرت صلی اللہ تم اپنے پیچھے بیمار چھوڑ کر غزوہ بدر کے لیے تشریف لے گئے تھے اور جن کی وجہ سے حضرت عثمان بھی شریک غزوہ نہیں ہو سکے۔8891 قرد کی طرف سریہ حضرت زید بن حارثہ کے ایک سیریہ جو جمادی الآخر سن 13 ہجری میں قردہ کے مقام کی طرف بھیجا گیا تھا، اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بَنُو سُلَيْم اور بَنُو غَطَفَان کے حملوں سے کچھ فرصت ملی تو مسلمانوں کو ایک اور خطرہ کے سدباب کے لیے وطن سے نکلنا پڑا۔اب تک قریش اپنی شمالی تجارت کے لیے عموماً حجاز کے ساحلی راستے سے شام کی