اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 372
تاب بدر جلد 4 372 الله عبد المطلب کی صاحبزادی تھیں اور باوجود نہایت درجہ نیک اور متقی ہونے کے ان کی طبیعت میں اپنے خاندان کی بڑائی کا احساس بھی کسی قدر پایا جاتا تھا۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی ای کمی کی طبیعت اس قسم کے خیالات سے بالکل پاک تھی اور گو آپ خاندانی حالات کو تمدنی رنگ میں قابل لحاظ سمجھتے تھے مگر آپ کے نزدیک بزرگی کا حقیقی معیار ذاتی خوبی اور ذاتی تقویٰ و طہارت پر مبنی تھا۔جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِندَ الله انفسكم (الجرات 146) یعنی اے لوگو ! تم میں سے جو شخص زیادہ متقی ہے وہی زیادہ بڑا اور صاحب عزت ہے۔پس آپ نے بلا کسی تامل کے اپنی اس عزیزہ یعنی زینب بنت جحش کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام اور متبنی زید بن حارثہ کے ساتھ تجویز فرما دی۔پہلے تو زینب نے اپنی خاندانی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ ایم کی بڑی پر زور خواہش کو دیکھ کر رضامند ہو گئیں۔بہر حال آنحضرت صلی للی کم کی خواہش اور تجویز کے مطابق ایم زینب اور زید کی شادی ہو گئی اور گو زینب نے ہر طرح شرافت سے نبھاؤ کیا مگر زیڈ نے اپنے طور پر یہ محسوس کیا کہ حضرت زینب کے دل میں ابھی تک یہ خلش مخفی ہے کہ میں ایک معزز خاندان کی لڑکی اور آنحضرت صلی للی کم کی قریبی رشتہ دار ہوں اور حضرت زید ایک محض آزاد شدہ غلام ہے اور میر الفو نہیں۔دوسری طرف خود زیڈ کے دل میں بھی زینب کے مقابلہ میں اپنی پوزیشن کے چھوٹا ہونے کا احساس تھا اور اس احساس نے آہستہ آہستہ زیادہ مضبوط ہو کر ان کی خانگی زندگی کو بے لطف کر دیا تھا اور میاں بیوی میں ناچاقی رہنے لگی تھی۔جب یہ ناگوار حالت زیادہ ترقی کر گئی تو زید بن حارثہ آنحضرت صلی الیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بزعم خود زینب کے سلوک کی شکایت کر کے انہیں طلاق دے دینے کی اجازت چاہی اور ایک روایت میں یوں بھی آتا ہے کہ انہوں نے یہ شکایت کی کہ زینب سخت زبانی سے کام لیتی ہے۔اس لیے میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی علیم کو طبعاً یہ حالات معلوم کر کے صدمہ بھی ہوا مگر آپ نے زید کو طلاق دینے سے منع فرمایا اور غالبا یہ بات محسوس کر کے کہ زید کی طرف سے نبھاؤ کی کوشش میں کمی ہے آپ نے حضرت زید کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ اختیار کر کے جس طرح بھی ہو نبھاؤ کرو۔اس کی کوشش کرو۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی آپ کے یہ الفاظ مذکور ہیں کہ اَمْسِكُ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ (الاحزاب : 38) کہ اے زید ! اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔آپ کی اس نصیحت کی وجہ یہ تھی کہ اول تو اصولاً آنحضرت صلی اللہ کی طلاق کو ناپسند فرماتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ ابغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللهِ الطَّلَاق کہ ساری حلال چیزوں میں سے طلاق خدا کو زیادہ ناپسند ہے اور اسی لیے اسلام میں صرف انتہائی علاج کے طور پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔دوسرے جیسا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے امام زین العابدین علی بن حسین کی روایت ہے اور امام زہری نے اس روایت کو مضبوط قرار دیا ہے چونکہ آنحضرت صلی علیہ ہم کو پہلے سے یہ وحی الہی ہو چکی تھی کہ زید بن حارثہ بالآخر زینب کو طلاق دے دیں گے اور اس کے بعد زینب آپ کے نکاح میں