اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 370

تاب بدر جلد 4 370 بدری صحابہ کے ساتھ جن خواتین کا بھی تعلق ہے ان خواتین کا ذکر بھی بعض صحابہ کے ذکر میں آجاتا ہے تا کہ ان خواتین کے بلند مقام کا بھی ہمیں پتا لگتار ہے اس لیے میں یہ ذکر ساتھ ساتھ کرتارہتا ہوں۔السلام علیکم کا رواج حضرت ام ایمن کی زبان میں کچھ لکنت تھی جب وہ کسی کے پاس جاتیں تو سَلَامُ اللهِ عَلَيْكُمْ کی بجائے، ( پہلے یہ سَلَامُ اللهِ عَلَيْكُمْ کہنے کا رواج تھا، لکنت کی وجہ سے سَلَام لَا عَلَيْكُمْ کہتی تھیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے انہیں سلام الله عَلَيْكُمْ کی بجائے سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنے کی اجازت دی اور اب وہی رواج ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی علیم نے پانی پیا تو اس وقت حضرت ام ایمن آپ کے پاس تھیں۔انہوں نے کہا یار سول اللہ ! مجھے بھی پانی پلائیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں اس پر میں نے اُن سے کہا کہ کیار سول اللہ صلی علیکم کو تم اس طرح کہہ رہی ہو کہ تمہیں پانی پلائیں ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ کیا میں نے رسول اللہ صلی علیم کی زیادہ خدمت نہیں کی۔اس پر نبی کریم صلی الیم نے فرمایا تو نے سچ کہا ہے۔پھر آپ نے انہیں پانی پلایا۔873 اس لیے روتی ہوں کہ وحی ہم سے اٹھالی گئی حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علیہ کی وفات پاگئے تو حضرت ام ایمن روتی رہیں۔ان سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی الیکم کے لیے آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں یہ تو جانتی تھی کہ نبی صلی علیہ کی بھی ضرور وفات پا جائیں گے لیکن میں تو اس لیے روتی ہوں کہ وحی ہم سے اٹھالی گئی۔874 یعنی آپ کی وفات کا ایک غم ہے وہ تو الگ رہا لیکن اس کے ساتھ جو تازہ بتازہ اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو تا تھا، وحی ہوتی تھی وہ سلسلہ اب بند ہو گیا ہے۔اس وجہ سے مجھے رونا آرہا ہے۔حضرت ابو بکر و عمر کا حضرت ام ایمن کی خدمت میں حاضر ہونا حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللی کمی کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ ہمارے ساتھ حضرت ام ایمن کے ہاں چلو کہ ان سے ملیں جس طرح رسول اللہ صلی عملی یکم ان سے ملا کرتے تھے۔جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رو پڑیں۔اس پر ان دونوں نے انہیں کہا کہ آپ کیوں روتی ہیں ؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے۔حضرت ام ایمن نے کہا کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ جانتی نہیں ہوں کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے۔ان کا بھی نیکی میں بڑا مقام تھا جیسا کہ میں نے کہا۔کہتی ہیں کہ میں تو اس لیے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنا بند ہو گئی۔انہوں نے ان دونوں کو بھی رلا دیا اور وہ دونوں بھی رونے لگے۔875