اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 362

ناب بدر جلد 4 362 کیا تو عثمان، طلحہ اور زبیر اس کا جواب دینے کے لیے موجود تھے " کہ ہم اعلیٰ خاندان کے ہیں " اور اگر کوئی کہتا کہ چند امراء کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لیا گیا ہے، غرباء جن کی دنیا میں اکثریت ہے انہوں نے اس مذہب کو قبول نہیں کیا تو زید اور بلال وغیرہ اس اعتراض کا جواب دینے کے لیے موجود تھے اور اگر بعض لوگ کہتے کہ یہ نوجوانوں کا کھیل ہے " نو جوان اکٹھے ہو گئے ہیں " تو لوگ ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ابو بکر تو نوجوان اور ناتجربہ کار نہیں۔انہوں نے کس بناء پر محمد رسول اللہ صلی علیم کو قبول کر لیا ہے ؟ غرض وہ کسی رنگ میں دلیل پیدا کرنے کی کوشش کرتے رسول کریم صلی علیکم کے ساتھیوں میں سے ہر شخص ان دلائل کو رڈ کرنے کے لیے ایک زندہ ثبوت کے طور پر کھڑا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل تھا جو رسول کریم صلی علیہ نیم کے شامل حال تھا۔اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِى انْقَضَ ظَهْرَكَ اے محمد رسول اللہ ! کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ جن سالمانوں سے دنیا جیتا کرتی ہے وہ سارے سامان ہم نے تیرے لیے مہیا کر دیے ہیں۔اگر دنیا قربانی کرنے والے نوجوانوں سے جیتا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔اگر دنیا تجربہ کار بڑھوں کی عقل سے ہارا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔" بڑی عمر کے لوگ اگر دنیا مالدار اور بار سوخ خاندانوں کے اثر ورسوخ کی وجہ سے شکست کھاتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں اور اگر عوام الناس کی قربانی اور فدائیت کی وجہ سے دنیا جیتا کرتی ہے تو یہ سارے غلام تیرے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تو ہار جائے اور یہ مکہ والے تیرے مقابلہ میں جیت جائیں۔پس و وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي انْقَضَ ظَهْرَكَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ بوجھ جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا وہ ہم نے خود اٹھا لیا۔تُو نے اس کام کی طرف نگاہ کی اور حیران ہو کر کہا کہ میں یہ کام کیوں کر کروں گا۔خدا نے ایک دن میں ہی تجھے پانچ وزیر دے دیے۔ابو بکر کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔خدیجہ کاستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔علی کاستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔زید کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ورقہ بن نوفل کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کے لیے کھڑا کر دیا۔اور اس طرح وہ بوجھ جو تجھ اکیلے پر تھاوہ ان سب لوگوں نے اٹھالیا۔"858 حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ "چار آدمی جن کو آپ سے بہت زیادہ تعلق کا موقع ملا تھا وہ آپ پر ایمان لائے یعنی خدیجہ آپ کی بیوی، علی آپ کے چچازاد بھائی اور زید آپ کے آزاد کردہ غلام اور ابو بکر آپ کے دوست اور ان سب کے ایمان کی دلیل اس وقت یہی تھی کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے۔" آپ کے سب قریبی یہ کہا کرتے تھے۔859 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت زید بن حارثہؓ کے اسلام لانے کے بارے میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی علی کلم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ