اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 354
354 117 صحاب بدر جلد 4 نام و نسب حضرت زیاد بن لبید آنحضرت علی الم کے ایک صحابی حضرت زیاد بن لبید تھے۔ان کی والدہ کا نام عمرها بِنْتِ عُبيد بن مظروف تھا۔حضرت زیاد کا ایک بیٹا عبد اللہ تھا۔عقبہ ثانیہ میں شمولیت عقبہ ثانیہ میں ستر اصحاب کے ساتھ آپ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد جب مدینہ واپس آئے تو انہوں نے آتے ہی اپنے قبیلہ بنو بیاضہ کے بت توڑ دیئے جو بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔مدینہ سے مکہ ہجرت کرنا 836 پھر آپ رسول اللہ صلی علیکم کے پاس مکہ چلے گئے اور وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی علیکم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ نے بھی آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ ہجرت کی۔اس لئے حضرت زیاد کو مہاجر انصاری کہا جاتا ہے۔مہاجر بھی ہوئے اور انصاری بھی تھے۔حضرت زیاد غزوۂ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی الی یکم کے ہمرکاب تھے۔آنحضور صلی علم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور قبیلہ بنو بیاضہ کے محلہ سے گزرے تو حضرت زیاد نے اهْلًا وَ سَهْلًا کہا اور قیام کے لئے اپنا مکان پیش کیا تو آنحضور صلی للی ایم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو یہ خود منزل تلاش کرلے گی۔محصل زكوة محرم نو ہجری میں آپ صلی علیم نے صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لئے الگ الگ محصلین مقرر فرمائے تو حضرت زیاد کو حضر موت کے علاقے کا محصل مقرر فرمایا۔حضرت عمر کے دور تک آپ اسی خدمت پر مامور رہے۔اس منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ نے کوفہ میں سکونت اختیار کرلی اور وہیں اکتالیس ہجری میں وفات پائی۔تاریخ میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جب فتنہ ارتداد نے زور پکڑا اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو اشعث بن قیس الکندی نے بھی ارتداد اختیار کیا۔حضرت زیاد کو اس کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا گیا۔جب آپ نے اس پر حملہ کیا تو اس نے قلعہ نیجیر میں پناہ لے لی۔حضرت زیاد نے 837