اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 350
تاب بدر جلد 4 زمین پر 350 ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپ لوگوں سے بیعت لیں تاکہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔غرض جب آپ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپ نے اس ذمہ داری کو اٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی۔بعض اکابر صحابہ اس وقت مدینے سے باہر تھے۔بعض سے تو جبراً بیعت لی گئی چنانچہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق آتا ہے کہ ان کی طرف حکیم بن جبلہ اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ روانہ کیا گیا اور انہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ حضرت علی کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ہم ابھی تم کو مار ڈالیں گے حتی کہ بعض روایات میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ وہ ان کو نہایت سختی کے ساتھ ر گھسیٹتے ہوئے لائے۔ظاہر ہے کہ ایسی بیعت کوئی بیعت نہیں کہلا سکتی۔پھر جب انہوں نے بیعت کی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے آپ قصاص لیں گے مگر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت علی قاتلوں سے قصاص لینے میں جلدی نہیں کر رہے تو وہ بیعت سے الگ ہو گئے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے۔انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھی حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علی اور حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں جنگ ہوئی جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے۔اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیر حضرت علی کی زبان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے تھے۔حضرت زبیر تو شروع میں ہی علیحدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی تھی، جو سمجھا تھا اس سے غلطی ہو گئی۔دوسری طرف حضرت طلحہ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علی کی بیعت کا اقرار کر لیا تھا کیونکہ روایت میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا۔انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو ؟ اس نے کہا حضرت علی کے گروہ میں سے۔اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیر اہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔19 829 بہر حال حضرت زبیر کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت زبیر کی شہادت جنگ جمل سے واپسی پر ہوئی تھی۔وہاں سے تو وہ علیحدہ ہو گئے تھے اور حضرت علی سے جنگ کا انہوں نے جو ارادہ کیا تو انہوں نے کہا میں نے غلطی کی ہے اور اس سے بالکل علیحدہ ہو گئے لیکن جنگ جمل سے واپسی پر ان کی شہادت ہوئی۔جب حضرت علی نے انہیں یاد دلایا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم علی سے لڑو گے اور زیادتی تمہاری طرف سے ہو گی۔انہوں نے کہا ہاں اور یہ بات مجھے ابھی یاد آئی ہے پھر وہاں سے چلے گئے۔حضرت علی سے جنگ سے