اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 341
ย 341 اصحاب بدر جلد 4 ہے۔ان میں سے ایک حضرت زبیر تھے۔یہ پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص نے محاصرے کے انتظامات ان کے سپر د کیے۔انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر قلعے کے گرد چکر لگایا۔فوج کو ترتیب دی۔سواروں اور پیادوں کو مختلف جگہوں پر متعین کیا۔منجنیقوں سے قلعے پر پتھر پھینکنے شروع کیے۔سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔فتح اور شکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔حضرت زبیر ایک دن کہنے لگے کہ آج میں مسلمانوں پر فدا ہو تا ہوں۔یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور سیڑھی لگا کر فصیل پر چڑھ گئے۔چند اور صحابہ نے ان کا ساتھ دیا۔فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ تکبیر کے نعرے بلند کیے اور ساتھ ہی تمام فوج نے اتنے زور سے نعرہ بلند کیا کہ قلعے کی زمین دہل گئی۔عیسائیوں نے سمجھا کہ مسلمان قلعے کے اندر گھس گئے ہیں۔وہ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔حضرت زبیر نے فصیل سے اتر کر قلعے کا دروازہ کھول دیا اور تمام فوج اندر گھس گئی۔811 خلافت کمیٹی کے ایک ممبر نامزد ہونا حضرت عمرؓ کی وفات کے وقت خلافت کمیٹی کے اراکین کی نامزدگی اور وفات کے بعد خلافت کے انتخاب کا واقعہ بخاری میں جو درج ہے وہ یوں ہے کہ جب حضرت عمررؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو لو گوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! وصیت کر دیں، کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں۔انہوں نے فرمایا کہ میں اس خلافت کا حق دار ان چند لوگوں سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی علی کی ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپ ان سے راضی تھے۔انہوں نے حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا نام لیا اور کہا کہ عبد اللہ بن عمر تمہارے ساتھ شریک رہے گا اور خلافت میں اس کا حق کوئی نہیں ہو گا۔اور پھر فرمایا کہ اگر خلافت سعد کو مل گئی تو پھر وہی خلیفہ ہو ورنہ جو بھی تم میں سے امیر بنایا جائے وہ سعد سے مدد لیتا رہے کیونکہ میں نے ان کو اس لیے معزول نہیں کیا کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لیے کہ انہوں نے کوئی خیانت کی تھی۔نیز فرمایا میں اس خلیفہ کو جو میرے بعد ہو گا پہلے مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتاہوں کہ وہ ان کے حقوق ان کے لیے پہچانیں اور ان کی عزت کا خیال رکھیں۔اور میں انصار کے متعلق بھی عمدہ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے اپنے گھروں میں ایمان کو جگہ دی۔جو ان میں سے نیک کام کرنے والا ہو اسے قبول کیا جائے اور جو ان میں سے قصور وار ہو اس سے در گذر کیا جائے۔اور میں سارے شہروں کے باشندوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی اس کو وصیت کرتاہوں کیونکہ وہ اسلام کے پشت پناہ ہیں اور مال کے محصل ہیں اور دشمن کے کڑھنے کا موجب ہیں۔اور یہ کہ ان کی رضامندی سے ان سے وہی لیا جائے جو ان کی ضرورتوں سے بچ جائے۔اور میں اس کو بدوی عربوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ عربوں کی جڑ اور اسلام کا مادہ ہیں۔یہ کہ ان کے ایسے مالوں سے لیا جائے جو ان کے کام کے نہ ہوں اور پھر انہی کے محتاجوں کو دے دیا جائے۔اور میں اس کو اللہ کے ذمے اور اس کے رسول صلی ا ظلم کے ذمے کرتا ہوں کہ جن لوگوں سے عہد لیا گیا ہو ان کا عہد ان کے