اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 340

ب بدر جلد 4 340 آ رہا ہے ؟ اس کے ساتھیوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہیں اپنے نیزے گھوڑوں کے کانوں کے درمیان رکھے ہوئے ہیں۔اس نے کہا یہ بنو سلیم ہیں ان سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔چنانچہ وہ آئے اور وادی کی طرف نکل گئے۔پھر دیکھا ایک اور دستہ سواروں کا ظاہر ہوا۔مالک نے پوچھا کیا دیکھتے ہو۔اس نے کہا کچھ لوگ ہیں نیزے ہاتھ میں ہیں۔اس نے کہا یہ اوس اور خزرج ہیں۔اس نے کہا ان سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔وہ بھی جب گھائی کے قریب پہنچے تو بنو سلیم کی طرح وادی کی طرف چل پڑے۔پھر ایک سوار نظر آیا۔مالک نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کیا دیکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا ایک شہسوار ہے۔لمباقد کندھے پر نیزہ ہے۔سر پر سرخ پڑکا باندھے ہوئے ہے۔مالک نے کہا یہ زبیر بن عوام ہے۔لات کی قسم! اس کی تم سے مڈھ بھیڑ ہو گی۔اب قدم مضبوط کر لو۔جب حضرت زبیر گھاٹی پر پہنچے۔سواروں نے انہیں دیکھا تو حضرت زبیر چٹان کی طرح ان کے سامنے ڈٹ گئے اور نیزے کے ایسے وار کیسے کہ گھائی ان کافر سر داروں سے خالی کرالی۔9 809 جنگ یرموک میں دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے نکل جانا عروہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جنگ پر موک میں رسول اللہ صلی علیم کے صحابہ نے حضرت زبیر سے کہا کیا آپ حملہ نہیں کریں گے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں ؟ حضرت زبیر نے کہا اگر میں نے حملہ کیا تو تم پیچھے رہ جاؤ گے۔انہوں نے کہا ہم پیچھے نہیں رہیں گے۔چنانچہ حضرت زبیر نے کفار پر اس زور سے حملہ کیا کہ ان کی صفیں چیرتے ہوئے نکل گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ کوئی ایک بھی نہ تھا۔پیچھے مڑ کے جب دیکھا تو کوئی ایک بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔پھر وہ لوٹے تو کفار نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور ان کے کندھے پر دوز خم لگائے جن میں وہ بڑ از خم بھی تھا جو جنگ بدر میں ان کو لگا تھا۔عروہ کہتے تھے کہ میں اپنی انگلیاں ان زخموں میں ڈال کر کھیلا کرتا تھا اور میں اس وقت چھوٹا تھا۔عروہ کہتے ہیں کہ ان دنوں پر موک کی لڑائی میں حضرت زبیر کے ساتھ عبد اللہ بن زبیر بھی تھے اور اس وقت وہ دس برس کے تھے۔حضرت زبیر ا نہیں گھوڑے پر سوار کر کے لے گئے تھے اور ایک شخص کو ان کی حفاظت کے لیے مقرر کر دیا تھا۔0 810 ایک ہزار کے برابر فتح شام کے بعد حضرت عمرو بن عاص کی سرکردگی میں مصر پر حملہ ہوا۔مصر کے فاتح حضرت عمرو بن عاص نے اسکندریہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تھا تو اسکندریہ کے جنوب میں دریائے نیل کے کنارے خیمے نصب کیے تھے اس لیے اس کو فسطاط کہتے ہیں۔یہی مقام بعد میں شہر بن گیا اور اسی شہر کا جدید حصہ آج قاہرہ کہلا تا ہے۔جب مسلمانوں نے اس فسطاط کا محاصرہ کر لیا۔انہوں نے قلعے کی مضبوطی اور فوج کی قلت کو دیکھا تو حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عمرؓ سے کمک روانہ کرنے کے لیے درخواست کی۔حضرت عمر نے دس ہزار فوج اور چار افسر بھجوائے۔فرمایا ان میں سے ہر ایک افسر ایک ہزار کے برابر