اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 338
صحاب بدر جلد 4 338 میں نے بنو قریظہ کی طرف دو دفعہ یا تین دفعہ جاتے ہوئے انہیں دیکھا۔جب میں لوٹ کر آیا تو میں نے کہا اے میرے والد ! میں نے آپ کو ادھر اُدھر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔انہوں نے کہا بیٹا کیا تم نے واقعی مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں۔تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تھا کہ بنو قریظہ کے پاس کون جائے گا اور ان کی خبر لے کر میرے پاس آئے گا۔یہ سن کر میں چلا گیا۔جب میں لوٹا، جب واپس آ کے یہ رپورٹ دی تو رسول اللہ صلی علیم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا اکٹھا نام لیا یعنی فرمایا میرے 804 ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔نہیں بلکہ تیرابیٹا اس کو مارے گا غزوہ خیبر میں یہود کا مشہور سردار مرحب حضرت محمد بن مسلمہ کے ہاتھوں مارا گیا تو اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا۔اس نے مَن تُبَارِز؟ کا نعرہ بلند کیا کہ کون ہے جو میر ا مقابلہ کرے گا؟ حضرت زبیر اس کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔حضرت صفیہ نے نبی کریم صلی علیہم سے عرض کی کہ یارسول اللہ ! معلوم ہوتا ہے کہ آج میرے بیٹے کو شہادت نصیب ہو گی۔آنحضرت صلی ہم نے فرمایا نہیں بلکہ تیرابیٹا اس کو مارے گا۔حضرت زبیر یا سر کے مقابلے کے لیے نکلے اور وہ حضرت زبیر کے ہاتھوں مارا گیا۔5 805 تمہیں یہ کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور کہا۔۔۔الله سة حضرت زبیر ان تین لوگوں میں بھی شامل تھے جنہیں آنحضرت صلی ایم نے اس عورت کا پتہ کرنے بھیجا تھا جو کفار کے لیے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کاخط لے کر جارہی تھی۔گو اس کا ذکر پہلے ہو لیکن اس حوالے سے یہاں بھی تھوڑا سا ذکر کر دیتا ہوں۔حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الم نے مجھے ، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ جب تم رُوضَه خَاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہو گا۔تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا۔چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ ہم رُوضَہ خان پہنچے۔یہ سکے اور مدینے کے درمیان ایک جگہ ہے اس کا نام ہے۔وہاں ہمیں واقعہ ایک عورت ملی۔ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے۔اس نے کہا میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ہم نے اسے کہا کہ یا تو خود ہی خط نکال دو یا پھر ہم سختی کریں گے بلکہ تمہیں برہنہ کریں گے۔جس حد تک بھی ہمیں جانا پڑا جائیں گے۔مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا۔ہم وہ خط لے کر نبی کریم صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس خط کو جو کھول کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ وہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے کچھ مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ نام کے ایک فیصلے کی خبر دی گئی تھی۔نبی صلی للہ ہم نے ان سے پوچھا کہ حاطب یہ کیا ہے ؟ یہ تم نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میرے معاملے میں جلدی نہ کیجیے گا۔میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا۔البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں۔میں نے سوچا کہ ان پر ایک احسان کر دوں۔میں نے یہ کام جو ہے یہ کافر ہو کر یا مرتد ہو کر یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے نہیں کیا۔صرف ان لوگوں پر ایک احسان کرنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے کیا ہے۔نبی کریم صلی لی ایم نے