اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 315

تاب بدر جلد 4 315 میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی علیم سے معذرت کر کے آپ کا دل اپنے بارے میں صاف کر دوں گا۔جب میں نے سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا کہ ابو عبد اللہ ! تم پر سلامتی ہو۔اس اونٹ کے بھاگ جانے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کیا۔اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے وہ اونٹ نہیں بھا گا۔آپ نے تین بار فرمایا کہ اللہ تم پر رحم کرے۔پھر اس کے بعد آپ نے بھی مجھے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔گویا ایک تو اس بات سے کہ مجھ سے نہ چھپاؤ مجھے پتہ ہے اصل قصہ کیا ہے۔دوسرے اس طرح بیٹھ کے بلاوجہ لوگوں کی مجلس میں ان کی باتیں سننا جو ہے وہ غلط چیز ہے۔بیماری سے شفا پانے پر نذر پوری کرنا 746 حضرت حوات بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوا تو نبی صلی یہ ہم نے میری عیادت فرمائی۔جب میں شفایاب ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔اے خوات ! تمہارا جسم تندرست ہو گیا ہے۔پس جو تم نے اللہ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کرو۔میں نے عرض کیا۔میں نے اللہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی مریض ایسا نہیں کہ جب وہ بیمار ہوتا ہے تو کوئی نذر نہیں مانتا یانیت نہیں کرتا۔ضرور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے تندرست کر دے تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔پس اللہ سے کیا ہوا وعدہ وفا کرو۔جو بھی تم نے بات کہی ہے اسے پورا کرو۔747 پس یہ ایسی ہی بات ہے جو ہم سب کے لیے قابل غور اور قابل توجہ ہے۔غزوہ بنو قریظہ کی طرف بھیجے جانے والے وفد میں۔۔۔۔۔غزوہ خندق کے موقع پر جب آنحضور صلی اللہ ہم کو بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع ملی تو آپ نے ایک وفدان کی طرف بھیجا۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ: " آنحضرت صلی الم کو جب بنو قریظہ کی اس خطرناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زبیر بن العوام کو دریافت حالات کے لیے بھیجا اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے رئیس سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض دوسرے بااثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آکر اس کا بر ملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے۔" جہاں ان کی رہائش تھی، گھر تھے " اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بد بخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا اور سعدین " یعنی سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ" کی طرف سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ : "جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔" یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد