اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 310

ناب بدر جلد 4 310 شہداء اُحد میں ہی دفن ہوں۔اس واقعہ کی تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ حضرت عائشہ غزوہ اُحد کے بارہ میں خبر لینے کے لئے مدینہ کی عورتوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔اس وقت تک پر دے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔جب آپ (حضرت عائشہ ) حرہ کے مقام تک پہنچیں تو آپ کی ملاقات ہند بنت عمرو سے ہوئی جو کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی ہمشیرہ تھیں۔حضرت ہند اپنی اونٹنی کو ہانک رہی تھیں۔اس اونٹنی پر آپ کے شوہر حضرت عمرو بن جموح، بیٹے حضرت حلّا ذ بن عمرو اور بھائی حضرت عبد اللہ بن عمرو کی نعشیں تھیں۔جب حضرت عائشہ نے میدان جنگ کی خبر لینے کی کوشش کی تو حضرت عائشہ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کچھ خبر ہے کہ تم پیچھے لوگوں کو کس حال میں چھوڑ آئی ہو ؟ اس پر حضرت ہند نے کہا کہ رسول اللہ صلی للی یکم بخیریت ہیں اور آپ صلی علیکم کے بعد ہر مصیبت آسان ہے، جب آپ خیریت سے ہیں تو پھر کوئی ایسی بات نہیں۔اس کے بعد حضرت ہند نے یہ آیت پڑھی وَرَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۖ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَ كَانَ اللهُ قَوِيَّا عَزِيزًا (الاحزاب:26) یعنی اور اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان کے غیض سمیت اس طرح لوٹا دیا کہ وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کر سکے اور اللہ مومنوں کے حق میں قتال میں کافی ہو گیا اور اللہ بہت قوی اور کامل غلبہ والا ہے۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ اونٹنی پر کون کون ہیں ؟ تب حضرت ہند نے بتایا کہ میر ابھائی ہے، میرابیٹا خلاد ہے اور میرے شوہر عمرو بن جموح ہیں۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ تم انہیں کہاں نئے جاتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ انہیں مدینہ میں دفن کرنے کے لئے لے جارہی ہوں۔پھر وہ اپنے اونٹ کو ہانکنے لگیں تو اونٹ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس پر وزن زیادہ ہے۔جس پر حضرت ہند کہنے لگیں کہ یہ تو دو اونٹوں جتنا وزن اٹھا لیتا ہے لیکن اس وقت یہ اس کے بالکل الٹ کر رہا ہے۔پھر انہوں نے اونٹ کو ڈانٹا تو وہ کھڑا ہو گیا۔جب انہوں نے اس کا رخ مدینہ کی طرف کیا تو وہ پھر بیٹھ گیا۔پھر جب انہوں نے اس کا رخ اُحد کی طرف پھیرا تو اونٹ جلدی جلدی چلنے لگا۔پھر حضرت ہند رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئیں اور آنحضور صلی الی یکم کو اس واقعہ کی خبر دی۔آپ صلی اسلام نے فرمایا کہ یہ اونٹ مامور کیا گیا ہے یعنی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف اسی کام پر لگایا گیا تھا کہ یہ مدینہ کی طرف نہ جائے بلکہ اُحد کی طرف ہی رہے۔فرمایا کہ کیا تمہارے شوہر نے جنگ پہ جانے سے پہلے کچھ کہا تھا؟ کہنے لگیں جب عمر و اُحد کی جانب روانہ ہونے لگے تھے تو انہوں نے قبلہ رُخ ہو کر یہ کہا تھا کہ اے اللہ ! مجھے میرے اہل کی طرف شر مندہ کر کے نہ لوٹانا اور مجھے شہادت نصیب کرنا۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اونٹ نہیں چل رہا تھا۔فرمایا کہ اے انصار کے گروہ ! تم میں سے بعض ایسے نیکو کار لوگ ہیں کہ اگر وہ خدا کی قسم کھا کر کوئی بات کریں تو خدا تعالیٰ ان کی وہ بات ضرور پوری کرتا ہے اور عمرو بن جموح بھی ان میں سے ایک ہیں۔پھر آپ نے عمرو بن جموح کی بیوی کو فرمایا کہ اے ہند ! جس وقت سے تیر ابھائی شہید ہوا ہے اس وقت سے فرشتے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ اسے کہاں دفن کیا جائے۔رسول اللہ صل العلم ان شہداء کی تدفین تک وہیں رکے رہے۔پھر فرمایا اے ہند ! عمرو بن جموح، تیرابیٹاخلاذ اور