اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 308
اصحاب بدر جلد 4 308 کے قابل نہ تھے ان کو واپس بھیج دیا تھا اور پھر ہم نے محسیگہ کے یہود کی طرف پیش قدمی تھی۔اس وقت حُسیگہ کے یہود سب یہود پر غالب تھے پس ہم نے انہیں جس طرح چاہا قتل کیا۔ان کی آپس میں بڑی جنگ ہوئی۔اس لئے انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے امید ہے کہ جب ہم لوگ قریش کے مقابل ہوں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھوں کو ان سے ٹھنڈک عطا کرے گا یعنی آپ کو بھی فتح حاصل ہو گی جس طرح پرانے زمانے میں ہمیں ہو چکی ہے۔حضرت خلاد بن عمرو کہتے ہیں کہ جب دن چڑھا تو میں خُوبی میں اپنے اہل کے پاس گیا۔خُر بی اس محلے کا نام ہے جہاں بنو سلمہ کے گھر تھے۔کہتے ہیں میرے والد حضرت عمرو بن جموح نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ تم لوگ جاچکے ہو۔پہلی روایت جو بیان ہوئی تھی اس میں یہ لکھا تھا کہ والد عمرو بن جموح کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے لیکن اس روایت سے اور بعد کی روایتوں سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ والد شامل نہیں تھے۔میں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی تیم شقیا کے میدان میں لوگوں کا جائزہ اور گنتی کروا رہے ہیں۔تب حضرت عمرو نے کہا کہ کیا ہی نیک فال ہے۔واللہ ! میں امید رکھتا ہوں کہ تم غنیمت حاصل کرو گے اور مشرکین قریش پر کامیابی حاصل کرو گے۔جس روز ہم نے حُسیگہ کی طرف پیش قدمی کی تھی ہم نے بھی یہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔اس پرانی بات کی یہ بھی تصدیق کر رہے ہیں جو پہلے روایت میں آگئی ہے کہ یہودیوں کی آپس میں لڑائی ہوئی تھی۔حضرت خَلاد بیان کرتے ہیں کہ رسول خداصلی ایم نے محسینگہ کا نام بدل کر سُفیار کھ دیا۔میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں اس جگہ کو شقیا کو خرید لوں۔لیکن مجھ سے پہلے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسے دو اونٹوں کے عوض خرید لیا اور بعض کے مطابق سات اوقیہ یعنی دو سو اسی در ہم کے عوض خریدا تھا۔جب آنحضور صلی یکم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے فرما یار بح البیع یعنی اس کا سودا ت ہی نفع مند ہے۔734 حضرت خلّاد کے والد حضرت عمرو بن جموح بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔خَلادُ اور آپ کے والد حضرت عمرو بن جموح اور حضرت ابوائین تینوں غزوہ اُحد میں شامل ہوئے تھے اور ان تینوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔735 یعنی خود بھی اور بھائی بھی اور والد بھی یہ تینوں جنگ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔والد ان کے جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ان کی شامل ہونے کی خواہش تھی لیکن ان کی ٹانگ کی مجبوری کی وجہ سے، ان کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی۔صحیح نہیں تھے ، معذور تھے۔اس لئے ان کو بدر میں ان کے بیٹوں نے شامل ہونے سے روک دیا تھا۔خدا کی راہ میں جنگ میں شامل ہونے اور شہادت کا جذبہ مسابقت حضرت خلاد کے والد حضرت عمرو بن جموح کے بارے میں آتا ہے کہ بدر کے موقع پر