اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 279
اصحاب بدر جلد 4 رض 279 ایک اور جگہ کمر کے زخم دکھانے کے بارے میں ذرا تفصیل سے اس طرح روایت آتی ہے۔شعبی سے روایت ہے کہ حضرت خباب حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے۔انہوں نے حضرت خباب کو اپنی نشست گاہ پر بٹھایا اور فرمایا سطح زمین پر کوئی شخص اس مجلس کا ان سے زیادہ مستحق نہیں سوائے ایک شخص کے۔حضرت خباب نے کہا اے امیر المومنین !وہ کون ہے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ بلال ہے۔حضرت خباب " نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اے امیر المومنین اوہ مجھ سے زیادہ مستحق نہیں ہے کیونکہ بلال جب مشرکوں کے ہاتھ میں تھے تو ان کا کوئی نہ کوئی مدد گار تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان کو بچالیا کرتا تھا مگر میرے لیے کوئی نہ تھا جو میری حفاظت کرتا۔ایک روز میں نے خود کو اس حالت میں دیکھا کہ لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور میرے لیے آگ جلائی۔پھر انہوں نے مجھے اس میں ڈال دیا۔حضرت حباب کہتے ہیں کہ ایک روز میری یہ حالت تھی۔میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔میرے لیے آگ جلائی اور پھر اس میں مجھے ڈال دیا۔آگ کے کوئلوں پر جو گرم کو ملے تھے ایک آدمی نے مجھے اس میں پھینک کے اپنا پاؤں میرے سینے پر رکھ دیا۔لوگوں نے مجھے اس میں پھینک دیا اور اس کے بعد ایک آدمی نے اپنا پاؤں میرے سینے پر رکھ دیا تو میری کمر ہی تھی جس نے مجھے گرم زمین سے بچایا یا کہا کہ میری کمر ہی تھی جس نے زمین کو ٹھنڈا کیا۔پھر انہوں نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹایا تو وہ برص کی طرح سفید تھی۔660 رض 661 یعنی گرم کو ئلوں پر لٹایا تو کوئی چیز ان کو ئلوں کو ٹھنڈا کرنے والی نہیں تھی۔جسم کی جو کھال اور چربی تھی وہی پکھل کے اس کو ٹھنڈا کر رہی تھی۔پھر اس بارے میں ایک روایت اس طرح بھی ہے۔شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت خباب " سے ان مصائب کے بارے میں پوچھا جو انہیں مشرکین سے پہنچتے تھے تو انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین امیری پیٹھ دیکھیں۔جب حضرت عمر نے پیٹھ دیکھی تو فرمایا میں نے ایسی پیٹھ کسی کی نہیں دیکھی۔حضرت خباب نے بتایا کہ آگ جلائی جاتی تھی اور اس پر مجھے گھسیٹا جاتا تھا اور اس آگ کو اور کوئی چیز نہ بجھاتی تھی سوائے میری کمر کی چربی کے۔11 حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت خباب کے بارے میں جو بیان کیا ہے وہ اس طرح ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ ” یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی علیہ تم پر ایمان لا کر جن لوگوں نے سب سے زیادہ تکلیفیں اٹھائیں وہ غلام ہی تھے۔چنانچہ خباب بن الارث ایک غلام تھے جو لوہار کا کام کرتے تھے۔وہ نہایت ابتدائی ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم “ پر ایمان لے آئے۔لوگ انہیں سخت تکالیف دیتے تھے حتی کہ انہی کی بھٹی کے کوئلے نکال کر ان پر انہیں لٹا دیتے تھے اور اوپر سے چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تھے تا کہ آپ کمر نہ ہلا سکیں۔ان کی مزدوری کا روپیہ جن لوگوں کے ذمہ تھاوہ روپیہ ادا کرنے سے منکر ہوگئے۔مگر باوجود ان مالی اور جانی نقصانوں کے آپ ایک منٹ کے لیے بھی متذبذب نہ ہوئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے۔آپ کی پیٹھ کے نشان آخر عمر تک قائم رہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ کی حکومت کے ایام میں انہوں نے اپنے گذشتہ مصائب کا ذکر کیا تو انہوں نے ان سے پیٹھ دکھانے کو کہا۔جب انہوں نے پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا تو تمام