اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 277
اصحاب بدر جلد 4 277 نے اس زور سے اللہ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۔654 حضرت خباب کا تکلیف کا اظہار اور صبر کے نتیجہ میں امن و سکون کی بشارت حضرت خباب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی الی کمی سے اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔آپ صلی یہ کام اس وقت کعبے کے سائے میں اپنی چادر پر ٹیک دیے بیٹھے تھے۔ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے نصرت طلب نہیں کریں گے۔کیا آپ صلی علی یکم ان تنگی کے حالات میں ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کریں گے۔آپ صلی علیم نے فرمایا تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان میں سے ایک شخص کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا پھر اسے اس میں گاڑ دیا جاتا۔پھر آرالا یا جاتا اور وہ اس کے سر پر رکھا جاتا اور اس شخص کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روک سکتی اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں یا پٹھوں سے نوچ کر الگ کر دیا جاتا اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روک سکتی۔پھر آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اللہ اس کام کو یعنی جو میرا مشن ہے اس کو ضرور پورا کرے گا۔جس مقصد کے لیے میں آیا ہوں وہ ضرور پورا ہو گا، آسانیاں بھی آئیں گی۔پھر آگے آپ نے فرمایا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا۔صنعاء اور حضر موت یمن کے دو شہر ہیں اور کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان 216 میل کا فاصلہ ہے۔بہر حال آپ نے فرمایا کہ یہ سفر کرے گا اور اس کو سوائے خدا کے کسی کا ڈر نہیں ہو گا۔یا یہ بھی فرمایا کہ نہ اپنی بکریوں پر بھیڑیے کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو گا۔آپ نے فرمایا مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔صبر سے یہ سارا کام ہو گا۔بخاری کی روایت ہے یہ۔155 دوسری جگہ یہ روایت اس طرح درج ہوئی ہے۔حضرت حباب “بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھا ہوا تھا۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے اس قوم کے خلاف جن کی نسبت ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہمیں ہمارے دین سے نہ پھیر دیں ؟ تو آپ نے مجھ سے اپنا چہرہ تین مرتبہ پھیر ا۔چہرہ پرے کر لیا اور جب بھی میں آپ سے یہ عرض کرتا تو آپ اپنا منہ موڑ لیتے۔تیسری دفعہ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو۔خدا کی قسم ! تم سے پہلے خدا کے ایسے مومن بندے گزرے ہیں جن کے سر پر آراد کھ دیا جاتا اور انہیں دو ٹکڑے کر دیا جاتا مگر وہ اپنے دین سے پیچھے نہ ہے۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ تمہاری راہیں کھولنے والا اور تمہارے کام بنانے والا ہے۔656 اسلام قبول کرنے کی پاداش میں حقوق کا غصب اور طنز حضرت خباب " سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمہ میرا قرض تھا۔میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں ہر گز تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا جب