اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 272
272 86 صحاب بدر جلد 4 حضرت خالد بن بگیر دارارقم میں اسلام قبول کرنے والے ย پھر بدری صحابہ میں ایک ذکر حضرت خالد بن بکیر کا ہے۔حضرت خالد بن بگیر حضرت عاقل حضرت عامر ، حضرت ایاس نے اکٹھے دارارقم میں اسلام قبول کیا تھا اور ان چاروں بھائیوں نے دارار قم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔رسول اللہ صلی علیہم نے حضرت خالد بن بگیر اور حضرت زید بن دینہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔آپ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں موجود تھے اور رجیع کا واقعہ جو پہلے بیان ہوا ہے جہاں دھوکے سے دس مسلمانوں کو مارا گیا تھا وہاں آپ بھی شہید ہوئے۔3 644 643 واقعہ رجیع اور شہادت نبی کریم صلی للی کرم نے غزوہ بدر سے پہلے ایک سریہ عبداللہ بن جحش کی قیادت میں قریش کے قافلہ کے لئے روانہ فرمایا اس میں حضرت خالد بن بگیر بھی شامل تھے۔آپ صفر 4 ہجری کو 34 سال کی عمر میں جنگ رجبیع میں عاصم بن ثابت اور مَرْشَد بن ابی مرقد غنوی کے ساتھ قبائل عضل وقارہ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔اس بارہ میں ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب قبیلہ عَضَل اور قارہ کے لوگ ان صحابہ کو لے کر مقام رجیع میں پہنچے جو قبیلہ ھذیل کے ایک چشمہ کا نام ہے۔رجیع جو جگہ ہے یہ جو قبیلہ ہذیل کے ایک چشمہ کا نام ہے اور حجاز کے کنارے پر واقعہ ہے تو ان لوگوں نے اصحاب کے ساتھ غداری کی۔یعنی جو لوگ لے کر گئے تھے انہوں نے صحابہ کے ساتھ غداری کی۔دھو کہ دیا اور قبیلہ ھذیل کو ان کے خلاف بھڑ کا دیا۔صحابہ اس وقت اپنے خیمہ میں ہی تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ چاروں طرف سے لوگ تلواریں لئے چلے آ رہے ہیں۔یہ بھی دلیرانہ جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔ان لوگوں نے ( یعنی کافروں نے ) کہا واللہ ! ہم تم کو قتل نہیں کریں گے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ تم کو پکڑ کر مکہ والوں کے پاس لے جائیں گے اور ان سے تمہارے معاوضہ میں کچھ لے لیں گے۔حضرت مرثد بن ابی مرشد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عاصم بن ثابت اور حضرت خالد بن بکیر نے کہا کہ خدا کی قسم !اہم مشرک کے عہد میں داخل نہیں ہوتے۔آخر یہ تینوں اس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے۔645 حضرت حسان بن ثابت نے ان لوگوں کے بارے میں اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ الَا لَيْتَنِي فِيْهَا شَهِدُتُ ابْنَ طَارِقٍ وَزَيْدًا وَمَا تُغْنِي الْأَمَانِي وَمَرْثَدًا