اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 12
اصحاب بدر جلد 4 12 عبادت کرتا ہے۔اللہ کو یاد کرنے والا ہے۔اس کے دل میں نیکی ہے۔اس کے ساتھ پھر فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔حضرت ابو الْهَيْتم اپنی بیوی کے پاس لوٹے اور اسے رسول اللہ صلی ال نیم کی نصیحت کے بارے میں بتایا تو وہ کہنے لگیں کہ تم اس نصیحت کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکو گے جو تمہیں نبی کریم صلی للی یکم نے فرمائی ہے یہی کہ نیک سلوک کرنا۔اب عورت ذات ہے اور پھر نوکر بھی کوئی نہیں۔کام کرنے والا جو ملا ہے اس کے بارے میں یہ دیکھیں معیار، مومنانہ شان۔ان کی اہلیہ ان کو یہ کہنے لگی کہ حق تو تبھی پورا ہو گا کہ تم اس کو آزاد کر دو۔جو تمہیں ملازم ملا ہے اس کو آزاد کر دو۔اس پر حضرت ابوالهَيْئَم نے اس کو آزاد کر دیا۔35 یہ شان تھی ان صحابہ کی۔تمام غزوات میں شمولیت حضرت ابوالهَيْئَم غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں بھی رسول اللہ صلی ال نیم کے ہمرکاب تھے۔کھجوروں کے پھل کا اندازہ کرنے کے لئے مقرر کیا جانا 36 غزوہ موتہ میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد نبی کریم صلی نیلم نے حضرت ابو الْهَيْئَمْ کو خیبر میں کھجوروں کے پھل کا اندازہ کرنے کے لئے بھی بھجوایا تھا۔رسول اللہ صلی علی کم کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر نے آپ کو کھجوروں کے اندازے کے لئے بھجوانا چاہا تو انہوں نے جانے سے معذرت کر دی۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی علیم کے لئے تو کھجوروں کے اندازے کے لئے جایا کرتے تھے۔اس پر حضرت ابو الهی نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی ال نیلم کے لئے کھجوروں کا اندازہ کیا کرتا تھا جب میں اندازے کر کے واپس آتا تھا تو رسول اللہ صلی الیکم میرے لئے دعا فرماتے تھے۔اس وقت ان کو وہ خیال آگیا کہ آنحضرت ملا لیلی کیم کی دعائیں لیتا تھا اور ایک جذباتی کیفیت تھی۔یہ سن کر حضرت ابو بکر نے انہیں نہ بھجوایا۔تو یہ ایک جذباتی کیفیت تھی جو انہوں نے بیان کی ورنہ یہ لوگ وہ تھے جو ہمیشہ اطاعت کرنے والے تھے۔نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔اگر حضرت ابو بکر پھر بھی حکم دیتے تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ وہ تعمیل نہ کرتے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کا آپ کو دوبارہ نہ کہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت ابو بکر کو بھی ان کی اس جذباتی کیفیت کا خیال آگیا اور سمجھ گئے۔اس لئے حکم نہیں دیا۔پھر جب حضرت عمر نے خبیر کے یہود کو جلاوطن کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کی طرف ایسے افراد کو بھیجا جو ان کی زمین کی قیمت لگائیں۔حضرت عمرؓ نے ان کی طرف حضرت ابو الْهَيْقم اور حضرت فروہ بن عمرو اور حضرت زید بن ثابت کو بھیجا۔انہوں نے اہل خیبر کی کھجوروں اور زمین کی قیمت لگائی۔حضرت عمرؓ نے اہل خیبر کو ان کی نصف قیمت دے دی جو کہ پچاس ہزار درہم سے زیادہ بھی۔37