اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 263
اصحاب بدر جلد 4 263 مگر باوجود اس قسم کی باتوں کے مسلمانوں نے اپنے آقا کی ہدایت کے ماتحت ہر طرح صبر سے کام لیا اور اپنی طرف سے کوئی پیش دستی نہیں ہونے دی۔بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ اس معاہدہ کے بعد جو یہود کے ساتھ ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر یہود کی دلداری کا خیال رکھتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں کچھ اختلاف ہو گیا۔یہودی نے حضرت موسیٰ کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔صحابی کو اس پر غصہ آیا اور اُس نے اُس یہودی کے ساتھ کچھ سختی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الرسل بیان کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ ناراض ہوئے اور اس صحابی کو ملامت فرمائی اور کہا کہ ”تمہارا یہ کام نہیں کہ تم خدا کے رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے پھرو “ اور پھر آپ نے موسی کی ایک جزوی فضیلت بیان کر کے اس یہودی کی دلداری فرمائی۔مگر باوجود اس دلدارانہ سلوک کے یہودی اپنی شرارت میں ترقی کرتے گئے اور بالآخر خود یہود کی طرف سے ہی جنگ کا باعث پیدا ہوا اور ان کی قلبی عداوت ان کے سینوں میں سمانہ سکی اور یہ اس طرح پر ہوا کہ ایک مسلمان خاتون بازار میں ایک یہودی کی دُکان پر کچھ سودا خریدنے کے لیے گئی۔بعض شریر یہودیوں نے جو اُس وقت اُس دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اسے نہایت او باشانہ طریق پر چھیڑا اور خود دوکاندار نے یہ شرارت کی کہ اس عورت کی تہ بند کے نچلے کونے کو اس کی بے خبری کی حالت میں کسی کانٹے وغیرہ سے اس کی پیٹھ کے کپڑے سے ٹانک دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ عورت اُن کے اوباشانہ طریق کو دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر کوٹنے لگی تو وہ جنگی ہو گئی۔اس پر اس یہودی دوکاندار اور اس کے ساتھیوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگ گئے۔مسلمان خاتون نے شرم کے مارے ایک چیخ ماری اور مدد چاہی۔اتفاق سے ایک مسلمان اس وقت قریب موجود تھا۔وہ لیک کر موقعہ پر پہنچا اور باہم لڑائی میں یہودی دوکاندار مارا گیا۔جس پر چاروں طرف سے اس مسلمان پر تلواریں برس پڑیں اور وہ غیور مسلمان وہیں ڈھیر ہو گیا۔مسلمانوں کو اس واقعہ کا علم ہو ا تو غیرت قومی سے ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور دوسری طرف یہود جو اس واقعہ کو لڑائی کا بہانہ بنانا چاہتے تھے ہجوم کر کے اکٹھے ہو گئے اور ایک بلوہ کی صورت پیدا ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے رؤسائے بنو قینقاع کو جمع کر کے کہا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔تم ان شرارتوں سے باز آجاؤ اور خدا سے ڈرو۔انہوں نے بجائے اس کے کہ اظہار افسوس و ندامت کرتے اور معافی کے طالب بننے، سامنے سے نہایت مستمر دانہ جواب دیئے اور پھر وہی دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پر غرور نہ کرو، جب ہم سے مقابلہ ہو گا تو پتہ لگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ناچار آپ صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو قینقاع کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے۔اب یہ آخری موقعہ تھا کہ وہ اپنے افعال پر پشیمان ہوتے مگر وہ سامنے سے جنگ پر آمادہ تھے۔الغرض جنگ کا اعلان ہو گیا اور اسلام اور یہودیت کی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل پر نکل آئیں۔