اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 261
اصحاب بدر جلد 4 261 انہوں نے کہا ایسی حالت میں بہتر ہے کہ اس سے بات نہ کی جائے لیکن بعد میں بہر حال دیکھ لیں کہ جب شراب کی حرمت ہو گئی تو پھر اس کے نزدیک بھی یہ لوگ نہیں گئے۔صحابہ کا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے کا یہ معیار تھا کہ فوری طور پر مٹکے توڑ دیے۔622 یہ نہیں کہا کہ ہم نشہ کی عادت آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے جیسا کہ آج کل لوگ کہتے ہیں۔اول تو پہلے نشہ میں پڑ جاتے ہیں جو ویسے ہی غلط کام ہے۔اسلام میں ممنوع ہے اور پھر کہتے ہیں آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے، ہمیں مہلت دی جائے۔تو بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جو اُس وقت ہوا تھا اور پھر اس کے بعد ان کے قربانی کے معیار بھی بڑھتے چلے گئے۔یقینا حضرت حمزہ کو اس کے بعد شرمندگی بھی ہوئی ہو گی کہ انہوں نے کیا کہا۔غزوہ بدر کے بعد جب بنو قینقاع کی مہم درپیش تھی تو اس میں بھی حضرت حمزہ پیش پیش تھے۔اس غزوہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھایا ہو ا تھا۔یہ جھنڈ اسفید رنگ کا تھا۔623 اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھی ہے کہ ”جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں تشریف لائے تھے اس وقت مدینہ میں یہود کے تین قبائل آباد تھے۔ان کے نام بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی ان قبائل کے ساتھ امن و امان کے معاہدے کر لئے اور آپس میں صلح اور امن کے ساتھ رہنے کی بنیاد ڈالی۔معاہدہ کی رُو سے فریقین اس بات کے ذمہ دار تھے کہ مدینہ میں امن وامان قائم رکھیں اور اگر کوئی بیرونی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔شروع شروع میں تو یہود اس معاہدہ کے پابند رہے اور کم از کم ظاہری طور پر انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا پیدا نہیں کیا۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مدینہ میں زیادہ اقتدار حاصل کرتے جاتے ہیں تو اُن کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور انھوں نے مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کا تہیہ کر لیا اور اس غرض کے لیے انھوں نے ہر قسم کی جائز وناجائز تدابیر اختیار کرنی شروع کیں۔حتی کہ انھوں نے اس بات کی کوشش سے بھی دریغ نہیں کیا کہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ پیدا کر کے خانہ جنگی شروع کرا دیں۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک موقعہ پر قبیلہ اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے باہم محبت واتفاق سے باتیں کر رہے تھے کہ بعض فتنہ پرداز یہود نے اس مجلس میں پہنچ کر جنگ بعاث کا تذکرہ شروع کر دیا۔یہ وہ خطرناک جنگ تھی جو ان دو قبائل کے درمیان ہجرت سے چند سال قبل ہوئی تھی اور جس میں اوس اور خزرج کے بہت سے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔اس جنگ کا ذکر آتے ہی بعض جو شیلے لوگوں کے دلوں میں پرانی یاد تازہ ہو گئی اور گذشتہ عداوت کے منظر آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ باہم نوک جھونک اور طعن