اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 256
تاب بدر جلد 4 256 کو لے لیں۔انہوں نے اس کو سوار کر لیا۔اب علی، زید اور جعفر حمزہ کی لڑکی کی بابت جھگڑنے لگے۔علی کہنے لگے کہ میں نے اس کو لیا ہے اور میرے چا کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا میرے چا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اور زید نے کہا میرے بھائی کی بیٹی ہے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خالہ کے پاس رہے اور فرمایا: خالہ بمنزلہ ماں ہے اور علی سے کہا تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں اور جعفر سے کہا تم صورت اور سیرت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو اور زید سے کہا تم ہمارے بھائی ہو اور دوست ہو۔علی نے کہا کیا آپ حمزہ کی بیٹی سے شادی نہیں کر لیتے۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے۔میں اس کا چچا ہوں۔یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بھی ان واقعات میں حل ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ قضا میں مقدمے آتے ہیں کہ خالہ کے پاس کیوں جائے ؟ نانی کے پاس کیوں جائے؟ تو یہاں یہ فیصلے ہو گئے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے متعلق روض الانف میں لکھا ہے کہ ابنِ اسحاق کے علاوہ بعض نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے 613 اسلام لانے کے متعلق ایک بات کا اضافہ کیا ہے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب مجھ پر غصہ غالب آگیا اور میں نے کہہ دیا یعنی وہ جو سارا واقعہ ہوا ہے اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ جب اپنی لونڈی کے کہنے پہ (کہ دیا) کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہوں۔بعد میں مجھے ندامت ہوئی کہ میں نے اپنے آباؤ اجداد اور قوم کے دین کو چھوڑ دیا ہے اور میں نے اس عظیم معاملے کے متعلق شکوک و شبہات میں اس طرح رات گزاری کہ لمحہ بھر سو نہ پایا۔پھر میں خانہ کعبہ کے پاس آیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کی کہ اللہ تعالیٰ میرے سینے کو حق کے لیے کھول دے اور مجھ سے شکوک و شبہات کو دور کر دے۔میں نے ابھی دعا ختم بھی نہ کی تھی کہ باطل مجھ سے دُور ہو گیا اور میر ا دل یقین سے بھر گیا۔پھر صبح کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تمام حالت بیان کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ثبات قدم بخشے۔حضرت عمار بن ابو عمارؓ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ انہیں جبرئیل علیہ السلام ان کی حقیقی شکل میں دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔انہوں نے عرض کی کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو اپنی جگہ پر اب بیٹھ جاؤ۔راوی کہتے ہیں پھر جبرئیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی اس لکڑی پر اتر آئے جس پر مشرکین طواف کے وقت اپنے کپڑے ڈالا کرتے تھے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نگاہ اٹھاؤ اور دیکھو۔614