اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 236
ب بدر جلد 4 236 567 قربانیاں قبول فرمالے اور ہماری اس حالت کی اطلاع آنحضرت صلی علی کو کم کر دے کیونکہ یہاں تو اطلاع پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی علیہ ہم کو حضرت جبرائیل نے ان صحابہ کا سلام پہنچایا اور وہاں کے حالات اور شہادت کی اطلاع دی۔آنحضرت صلی الیہ ہم نے صحابہ کو اطلاع دی کہ وہ سب شہید کر دیئے گئے ہیں۔ستر صحابہ تھے جیسا کہ میں نے کہا، اور ان سب کی شہادت کا آپ کو بڑا انتہائی صدمہ تھا۔آپ نے تیس دن تک ان قبائل کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ ان میں سے جنہوں نے یہ ظلم کیا ہے خود ان کی پکڑ کر آنحضرت صلی الم نے ان شہادتوں کو بڑی عظیم شہادتیں قرار دیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس عشق و محبت اور دین کی خاطر عظیم الشان قربانی کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ محبت ایک ایسی شئے ہے کہ وہ سب کچھ کرا دیتی ہے۔ایک شخص کسی پر عاشق ہوتا ہے تو معشوق کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتا۔پھر دنیا والوں کی ایک مثال دی آپ نے کہ ایک عورت کسی پر عاشق تھی۔اس کو کھینچ کھینچ کر لاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے۔ماریں کھاتی تھی مگر وہ کہتی تھی کہ مجھے لذت ملتی ہے۔جبکہ جھوٹی محبتوں، فسق و فجور کے رنگ میں جلوہ گر ہونے والے عشق میں مصائب اور مشکلات کے برداشت کرنے میں ایک لذت ملتی ہے۔آپ فرماتے ہیں دنیا داروں کا یہ حال ہے تو خیال کرو کہ وہ جو خدا تعالیٰ کا عاشق زار ہو، اس کے آستانہ الوہیت پر نثار ہونے کا خواہشمند ہو وہ مصائب اور مشکلات میں کس قدر لذت پاسکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حالت دیکھو۔مکہ میں ان کو کیا کیا تکلیفیں پہنچیں۔بعض ان میں سے پکڑے گئے۔قسم قسم کی تکلیفوں اور عقوبتوں میں گرفتار ہوئے۔مرد تو مرد بعض مسلمان عورتوں پر اس قدر سختیاں کی گئیں کہ ان کے تصور سے بدن کانپ اٹھتا ہے۔اگر وہ مکہ والوں سے مل جاتے تو اس وقت بظاہر وہ ان کی بڑی عزت کرتے کیونکہ وہ ان کی برادری ہی تو تھے۔مگر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو مصائب اور مشکلات کے طوفان میں بھی حق پر قائم رکھا۔وہ وہی لذت اور سرور کا چشمہ تھا جو حق کے پیار کی وجہ سے ان کے سینوں سے پھوٹ نکلتا تھا۔پھر آپ اس واقعہ کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایک صحابی کی بابت لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ کاٹے گئے تو اس نے کہا کہ میں وضو کرتا ہوں۔آخر لکھا ہے کہ سر کاٹو تو پھر کہا کہ سجدہ کرتا ہے۔کہتا ہو امر گیا۔اس وقت اس نے دعا کی کہ یا اللہ آنحضرت صلی علیکم کو خبر پہنچا دے۔رسول اللہ صلی علی کم اس وقت مدینہ میں تھے۔جبرائیل علیہ السلام نے جا کر السلام علیکم کہا۔آپ نے علیکم السلام کہا اور اس واقعہ پر اطلاع ملی۔غرض اس لذت کے بعد جو خدا تعالیٰ میں ملتی ہے ایک کیڑے کی طرح کچل کر مر جانا منظور ہوتا ہے جس طرح ان صحابی نے کہا تھا میں نے رب کعبہ کو پالیا۔جو انتہا تھی عشق کی وہاں میں پہنچ گیا۔فرماتے ہیں کہ اور مومن کو سخت سے سخت تکالیف بھی آسان ہی ہوتی ہیں۔سچ پوچھو تو مومن کی