اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 9
اصحاب بدر جلد 4 9 سے مسلمان ہو کر مدینہ آئے تو حضرت ابو الْهَيْقم کو اسلام کی دعوت دی۔چونکہ آپ پہلے ہی دین فطرت کی تلاش میں تھے آپ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔پھر بیعت عقبہ اولیٰ کے وقت جو بارہ آدمیوں کا وفد مکہ گیا تو اس وفد میں آپ شامل تھے۔مکہ پہنچ کر آپ نے رسول اللہ صلی الی یوم کی بیعت کی۔28 بیعت عقبہ اولیٰ سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بارے میں تحریر کیا ہے کہ: آنحضرت علی کو لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں ان سے ملے۔انہوں نے یثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اپ کی دفعہ سب نے باقاعدہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ بیعت مدینہ میں سے کی نے کے ہاتھ پر اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھی۔چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہوا تھا اس لئے آنحضرت صلی الم نے ان سے صرف ان الفاظ میں بیعت لی جن میں آپ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔یعنی یہ کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مر تکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صلی علی یکم نے فرمایا اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہیے گا کرے گا۔یہ بیعت تاریخ میں بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے۔عقبہ کے لفظی معنی لکھے ہیں کہ "بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔"29 بارہ نقیبوں میں سے ایک حضرت ابوالهَيْقم ان چھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے اپنی قوم میں سے سب سے پہلے مکہ جا کر اسلام قبول کیا اور پھر مدینہ واپس آکر اسلام کی اشاعت کی۔ان کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ آپ سب سے پہلے انصاری ہیں جو مکہ جا کر آنحضرت صلی ایام سے ملے۔آپ بیعت عقبہ اولیٰ میں شامل ہوئے اور تمام محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ میں جب رسول اللہ صلی علیم نے ستر انصار میں سے بارہ نقباء منتخب فرمائے تو آپ بھی ان نقباء میں سے ایک تھے۔30 نقباء نقیب کی جمع ہے جس کا مطلب ہے کہ جو علم اور صلاحیت رکھنے والے لوگ تھے انہیں ان کا سردار یا لیڈر یا نگران مقرر کیا تھا۔ایک حدیث میں روایت ہے کہ بیعت عقبہ کے دوران حضرت أبو الهَيْئَم نے عرض کیا یار سول اللہ صلی للی کم ہمارے اور بعض دیگر قبائل کے درمیان باہمی مدد کے کچھ معاہدے ہیں۔جب ہم اسلام قبول کر لیں گے اور بیعت کر کے آپ ہی کے ہو جائیں گے تو ان معاہدوں