اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 230
اصحاب بدر جلد 4 230 مال ہے اسے بے شک چرنے دو۔552 یہ جو ایک روایت آئی ہے پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ ایک انصاری تھا جس نے حضرت زبیر سے حدہ کی اس ندی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے۔انصاری نے حضرت زبیر سے کہا کہ پانی بہنے دو اور حضرت زبیر نے نہ مانا تو وہ دونوں منبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر سے فرمایا: زبیر ! تم اپنے درختوں کو سیراب کر لو۔پھر اپنے ہمسائے کے لیے پانی چھوڑ دو۔انصاری کو غصہ آگیا اور اس نے کہا: آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: زبیر ! اپنے درختوں کو پانی دو۔پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک بھر آئے۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی تھی کہ تیرے رب کی قسم ! وہ ہر گز ہر گز مومن نہیں ہوں گے جب تک وہ تجھے ان باتوں میں حکم نہ مانیں جو اُن کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔553 اس حدیث میں جن انصاری کا ذکر ہے ان کے بارے میں تفاسیر میں اختلاف ہے۔تفسیر قرطبی میں کی والنہاس کے قول کے مطابق لکھا ہے کہ وہ انصاری حضرت حاطب بن ابی بلتعہ تھے۔554 76 حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس نام و نسب و کنیت حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس۔ابو حاطب ان کی کنیت تھی۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عامر بن کومی سے تھا۔ان کی والدہ اسماء بنت حارث بن نوفل تھیں جو قبیلہ اشجع سے تھیں۔حضرت سہیل بن عمرو، حضرت سلیط بن عمرو اور حضرت سکران بن عمرو آپ کے بھائی تھے۔حضرت حاطب بن عمرو کی اولاد میں عمرو بن حاطب تھے۔ان کی والدہ ربطہ بنت علقمہ تھیں۔15 555 قبول اسلام اور ہجرت حبشہ و مدینہ آنحضرت صل ال کلم کے دارار تم میں تشریف آوری سے پہلے آپ حضرت ابو بکر صدیق کی تبلیغ سے اسلام لائے تھے۔حبشہ کی سرزمین کی طرف دو دفعہ ہجرت کی اور ایک روایت کے مطابق ہجرت اولیٰ