اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 225

اصحاب بدر جلد 4 225 چاہو کرو تمہارے لئے جنت ہو چکی۔یا فرمایا میں نے تمہاری پردہ پوشی کر کے تم کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کار سول بہتر جانتے ہیں۔538 شاہ مقوقس کے پاس دوبارہ بھیجا جاتا حضرت ابو بکر نے بھی حضرت حاطب کو مقوقس کے پاس مصر بھیجا تھا اور ایک معاہدہ ترتیب دیا تھا جو حضرت عمرو بن عاص کے مصر پر حملہ تک طرفین کے درمیان قائم رہا۔ایک امن کا معاہدہ تھا۔539 حضرت حاطب کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت حاطب خوبصورت جسم کے مالک تھے۔ملکی 540 داڑھی تھی۔گردن جھکی ہوئی تھی۔پست قامتی کی طرف مائل اور موٹی انگلیوں والے تھے۔یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی وفات کے دن چار ہزار درہم اور دینار چھوڑے۔آپ غلہ وغیرہ کے تاجر تھے اور آپ نے اپنا تر کہ مدینہ میں چھوڑا۔10 حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حاطب کا غلام رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس اپنے مالک حضرت حاطب کی شکایت لے کر آیا۔غلام نے کہا کہ اے اللہ کے رسول حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا۔( کوئی سخت ست اس کو کہا ہو گا)۔اس پر رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ تو نے جھوٹ بولا ہے۔وہ اس میں ہر گز داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شامل ہو اتھا۔قیمتیں مقرر کرنے کے بارہ میں اسلامی تعلیم 541 الله جیسا کہ بتایا گیا کہ حضرت حاطب جو تھے وہ تاجر بھی تھے۔منڈی میں مال فروخت کیا کرتے تھے اور مال فروخت کرنے اور قیمتوں کے مقرر کرنے کی جو اسلامی تعلیم ہے وہ کیا ہے ؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے بات بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیکم کے زمانے سے مدینہ منورہ میں قیمتوں پر اسلامی حکومت تصرف رکھتی تھی۔یعنی مارکیٹ کی جو قیمتیں ہوتی تھیں وہ اسلامی حکومت قیمتیں مقرر کرتی تھی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر ایک دفعہ مدینہ کے بازار میں پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص حاطب بن ابی بلتعہ المُصَلَّی نامی بازار میں دو بورے سُوکھے انگوروں کے رکھے بیٹھے تھے۔سوکھے انگور کہہ لیں یا بعض جگہ کشمش لکھا ہوا ہے۔حضرت عمرؓ نے ان سے بھاؤ دریافت کیا تو انہوں نے ایک درہم کے دو مڈ بتائے کہ ایک درہم میں دوند آتے ہیں۔یہ جو قیمت تھی، جو بھاؤ تھا، یہ بازار کی عام قیمت سے ستا تھا۔اس پر حضرت عمر نے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھر جا کر فروخت کریں کیونکہ یہ بہت سستا ہے مگر بازار میں اس قدر سستے نرخ پر فروخت نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس سے بازار کا بھاؤ خراب ہوتا ہے اور لوگوں کو بازار والوں پر بد ظنی پیدا ہوتی ہے۔مارکیٹ کی جو زیادہ قیمت ہے اس پر پھر لوگ کہیں گے کہ وہ ہمارے سے ناجائز قیمت لے رہے ہیں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ فقہاء نے اس پر بڑی بحثیں کی ہیں۔بعض نے اپنی روایات بھی