اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 206
ب بدر جلد 4 206 513 میں شامل تھا لیکن معاہدہ کر کے بعد میں اس نے فتنہ پھیلانے کی کوشش کی اور اس کے قتل کا حکم آنحضرت صلی اللہ ہم نے دیا۔بہر حال اس موقع پر ان کے زخمی ہونے کا جو واقعہ ہے اس کی شرح عمدۃ القاری میں مزید تفصیل یہ ہے کہ محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب کعب بن اشرف پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا تو ان کے ایک ساتھی حضرت حارث بن اوس کو تلوار کی نوک لگی اور وہ زخمی ہو گئے ، اپنے ساتھیوں کی تلوار کی نوک سے زخمی ہوئے تھے۔چنانچہ آپ کے ساتھی انہیں اٹھا کر تیزی سے مدینہ پہنچے اور آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ ہم نے حضرت حارث بن اوس کے زخم پر اپنا لعاب لگایا اور اس کے بعد انہیں تکلیف نہیں ہوئی۔3 کعب بن اشرف کا قتل کیوں کیا گیا، اس کی تھوڑی سی تفصیل ایک موقع پر پہلے بھی میں نے بیان کی تھی۔مزید تفصیل جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے وہ بیان کرتا ہوں۔بعض باتیں وہی ہیں کہ کعب گو مذہبا یہودی تھا، لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا، بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو ںبھان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا جس نے مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا کئے پھر ان کا حلیف بن گیا۔آخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے بڑے رئیس ابو رافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اس کو رشتہ میں دے دی۔اسی لڑکی کے بطن سے کعب پید اہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا حتی کہ بالآخر اسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے اپنا سر دار سمجھنے لگ گئے۔کعب ایک وجیہہ اور شکیل شخص ہونے کے علاوہ قادر الکلام بھی تھا۔بہت اچھی تقریر کر لیا کرتا تھا، بہت اچھا بولتا تھا۔اور شاعر بھی تھا اور انتہائی دولت مند آدمی بھی تھا اور اپنی قوم کے علماء اور دوسرے ذی اثر لو گوں کو اپنی مالی فیاضی سے اپنے ہاتھ کے نیچے رکھتا تھا۔مگر اخلاقی نقطہ نگاہ سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا۔خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔آنحضرت صلی الله ولم نے جب مدینہ میں ہجرت کی تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں شرکت اختیار کی۔یہ لمبی تفصیل انہوں نے لکھی ہوئی ہے۔میں بعض جگہ سے کچھ مختصر بیان کروں گا۔بہر حال اس معاہدے میں شرکت کی جو آنحضرت صلی علی کم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن اور امان اور مشتر کہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا۔مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔معاہدے میں شامل تو وہ ہو گیالیکن دل میں اس کے فتور تھا، نفاق تھا اور دشمنی تھی، کینہ اور بغض تھا اور اس کی وجہ سے اس کی آگ میں وہ جل رہا تھا اور اس بغض اور کینہ کی وجہ سے اس نے خفیہ چالوں اور مخفی ساز باز سے اسلام اور آنحضرت صلی این نام کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ لکھا ہے کہ کعب ہر سال یہودی علماء و مشائخ کو بہت سی خیرات دیا کرتا تھا لیکن جب آنحضرت صلی علیہ سلم کی ہجرت کے بعد یہ لوگ اپنے سالانہ وظائف لینے کے لئے اس کے پاس گئے تو اس