اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 201
اصحاب بدر جلد 4 201 بہر حال یہ حالت تھی ان صحابہ کی۔ایک وقت میں شیطان کے دھو کہ میں تو آگئے لیکن جب احساس دلایا گیا، جب آنحضرت صلی اللہ ہم نے ان کو بتایا کہ کیوں جہالت میں واپس جارہے تھے تو فوراً ندامت پیدا ہوئی اور صلح کی طرف قدم بڑھایا بلکہ محبت اور بھائی چارے کا اظہار کیا۔تو یہ ان کے نمونے جھوٹی انا کو ختم کرنا چاہیے اب جو لوگ ذرا ذراسی بات پر جھوٹی غیر توں اور اناؤں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کے لئے بھی یہ ایک عظیم اسوہ ہے۔اگر وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے جنگیں کرنے والے بھائی بھائی بن گئے تو اب ایک کلمہ پڑھنے والے بلکہ ایک جماعت میں پیدا ہونے والے لوگ کیوں اپنی اناؤں کو ختم نہیں کر سکتے۔بہت سارے معاملات ایسے آتے ہیں کہ جھوٹی اناؤں کی وجہ سے رنجشیں چلتی ہیں، مہینوں سالوں چلتی ہیں۔بعض نوجوان لکھتے ہیں کہ اب جو نئی نسل ہے وہ ایک دوسرے سے رشتے قائم کرنا چاہتی ہے تو رشتے کرنا ہمارے خاندانوں کی رنجشوں کی وجہ سے، اپنے بزرگوں کی وجہ سے، اپنے بڑوں کی وجہ سے، بزرگ تو نہیں کہنا چاہئے، بڑوں کی وجہ سے وہ رشتے قائم نہیں ہوتے۔ان لوگوں کو عقل کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے یہی محبت اور پیار کی تعلیم دی ہے۔اکائی کی تعلیم دی ہے اور ایک قوم بنایا ہے، ہمیں ایک قوم بن کے رہنا چاہئے اور جھوٹی اناؤں میں دوبارہ ڈو بنا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو عقل دے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے یہود کو خیبر سے نکالا تو خود انصار و مہاجرین کو ساتھ لے کر جن میں حضرت جبار بن صخر اور حضرت یزید بن ثابت بھی تھے خیبر کے لئے روانہ ہوئے۔یہ دونوں حضرات خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگانے جایا کرتے تھے اور ان دونوں آدمیوں نے اسی تقسیم کے مطابق جو پہلے سے تھی ہر ایک کا حصہ علیحدہ کر دیا۔وادی قری کی تقسیم میں حضرت عمر نے جہاں دیگر اصحاب کو حصہ دیا وہاں ایک حصہ حضرت جبار بن صخر کو بھی دیا گیا۔سر یہ حضرت علی بطرف بنو کی جو ربیع الآخر نو ہجری میں ہوا تھا، اس کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو ڈیڑھ سو افراد کے ہمراہ بنوطی کے بت فلس کو گرانے کے لیے روانہ فرمایا۔بنو کی کا علاقہ مدینہ کے شمال مشرق میں واقع تھا۔آپ نے اس سریے کے لیے حضرت علی کو ایک کالے رنگ کا بڑا جھنڈا دیا اور سفید رنگ کا چھوٹا پرچم عطا فرمایا۔حضرت علی صبح کے وقت آلِ حاتم پر حملہ آور ہوئے اور ان کے بت فلس کو منہدم کر دیا۔حضرت علی “بوطی سے بہت سارا مال غنیمت اور قیدی لے کر مدینہ واپس آئے۔27 اس سریے میں لواء حضرت جبار بن صخر کے پاس تھا۔اس سریے میں حضرت علی نے اپنے ساتھیوں سے رائے مانگی تو حضرت جبار بن صخر نے کہا کہ رات ہم اپنی سواریوں پر سفر کرتے ہوئے 497 496 گزاریں اور صبح ہوتے ہی ان پر حملہ کر دیں۔حضرت علی کو آپ کی یہ بات پسند آئی۔498