اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 172
ب بدر جلد 4 172 رسول اللہ صل السلام کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں بھی اذان دیتے رہے ہیں۔یہ بھی 430 روایت ہے۔مدتوں بعد بلال کی اذان اور رسول اللہ صلی الم کی یاد میں اہل مدینہ کی حالت زار ایک روایت یوں بیان کی گئی ہے کہ ایک دفعہ حضرت بلال نے نبی کریم صلی لی کام کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرماتے ہیں اے بلال ! یہ کیسی سنگ دلی ہے۔کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم ہماری زیارت کے لیے آؤ۔حضرت بلال نہایت رنج کی حالت میں بیدار ہوئے ، شام میں ہوتے تھے اور سوار ہو کر مدینے کی طرف چل دیے اور نبی کریم صلی للی کام کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر زار و قطار رونے لگے اور تڑپنے لگے۔اتنے میں حضرت حسن اور حسین بھی آگئے۔حضرت بلال نے انہیں بوسہ دیا اور انہیں گلے لگایا تو حضرت حسن اور حضرت حسین نے حضرت بلال سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صبح کی اذان آپ دیں تو آپ مسجد کی چھت پر چڑھ گئے۔جب حضرت بلال نے الله اكبر الله اکبر کے الفاظ کہے تو راوی کہتے ہیں کہ مدینہ لرز اٹھا۔پھر جب انہوں نے أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله کے الفاظ کہے تو اور زیادہ جنبش ہوئی۔لوگوں میں ایک دم بیداری پیدا ہوئی۔پھر جب انہوں نے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّد الرَّسُوْلُ اللہ کے الفاظ کہے تو عور تیں اپنے کمروں سے باہر آئیں۔راوی کہتے ہیں کہ اس دن سے زیادہ رونے والے مرد اور رونے والی عورتیں نہیں دیکھی گئی تھیں۔31 آنحضرت علیل علم کا زمانہ اور یہ اذان یاد آگئی اور لوگ بے چین ہو گئے۔431 حضرت عمررؓ کے دورِ خلافت میں جب حضرت بلال نے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی تو حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز اذان دینے سے مانع ہے۔اس پر حضرت بلال نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کے حکم سے اذان دی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔پھر میں نے حضرت ابو بکر کے حکم سے اذان دی کیونکہ وہ میری نعمت کے نگران تھے یہاں تک کہ ان کی بھی وفات ہو گئی۔میں نے رسول اللہ صلی علی یم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے بلال ! کوئی عبادت جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر نہیں ہے ، چنانچہ حضرت بلال شام چلے گئے۔جب حضرت عمر شام تشریف لے گئے تو حضرت عمرؓ کے کہنے پر حضرت بلال نے اذان دی۔راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اس دن سے قبل آپ کو اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا۔432 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت بلال کے آخری زمانے کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت بلال آخری عمر میں شام چلے گئے تھے۔یہاں یہ ذکر بھی ہے کہ ان کو لوگ رشتہ نہیں دیتے تھے لیکن پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ان کی کئی شادیاں تھیں اور رشتے ہوئے تھے۔ہو سکتا ہے کہ بعض شام جانے کے لیے رشتہ نہیں دیتے یا شام جا کر رشتہ نہیں ملتا ہو گا۔بہر حال آنحضرت صلی علیہ یکم کے زمانے میں آپ کی کئی شادیوں کی روایت ملتی ہے تو حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ انہوں نے شام میں ایک جگہ رشتے کے