اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 167

اصحاب بدر جلد 4 167 تو بلال کا بنایا جاتا ہے۔کیوں؟ اس کی کیا وجہ تھی ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جب حملہ ہونے لگا تھا تو ابو بکر دیکھ رہا تھا کہ جن کو مارا جانے والا ہے وہ اس کے بھائی بند ہیں اور اس نے خود بھی کہہ دیا تھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ اپنے بھائیوں کو ماریں گے ؟ وہ ظلموں کو بھول چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔عمر بھی کہتے تو یہی تھے کہ یارسول اللہ! ان کافروں کو ماریے مگر پھر بھی جب آپ ان کو معاف کرنے پر آئے تو وہ اپنے دل میں یہی کہتے ہوں گے کہ اچھا ہو ا ہمارے بھائی بخشے گئے۔عثمان اور علی بھی کہتے ہوں گے کہ ہمارے بھائی بخشے گئے۔انہوں نے ہمارے ساتھ سختیاں کر لیں تو کیا ہوا۔خود رسول کریم صلی للی کم بھی ان کو معاف کرتے وقت یہی سمجھتے ہوں گے کہ ان میں میرے چچا بھی تھے، بھائی بھی تھے۔ان میں میرے داماد، عزیز اور رشتہ دار بھی تھے۔اگر میں نے ان کو معاف کر دیا تو اچھا ہی ہوا۔میرے اپنے رشتے دار بیچ گئے۔صرف ایک شخص تھا جس کی مکہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی۔جس کی مکہ میں کوئی طاقت نہیں تھی۔جس کا مکہ میں کوئی ساتھی نہیں تھا اور اس کی بے کسی کی حالت میں اس پر وہ ظلم کیا جاتا جونہ ابو بکر پہ ہوا، نہ علی پر ہوا نہ عثمان پر ہوا، نہ عمر پر ہوا بلکہ رسول کریم صلی ا تم پر بھی نہیں ہوا۔پچھلی ایک روایت جو میں نے گذشتہ ہفتے بیان کی تھی اس میں بھی یہ بیان ہوا تھا کہ حضرت ابو بکر بھی اور آنحضرت صلی للی کم پر بھی ظلم ہوئے لیکن یہ رشتہ داریوں کی وجہ سے بچے رہے تھے لیکن میں نے وضاحت کی تھی کہ آپ صلی للی کم پر بھی ظلم ہوئے اور حضرت ابو بکر پر بھی ظلم ہوئے۔اور صرف بھی ابو بلال پر ایسے ظلم ہوئے تھے جو کسی پر نہیں ہوئے۔یہاں بھی حضرت مصلح موعودؓ نے یہ انکار نہیں کیا کہ آپ لوگوں پر ظلم نہیں ہوئے بلکہ فرمایا کہ وہ ظلم جو بلال پر ہو اوہ کسی اور پر نہیں ہوا۔حضرت بلال پر ہونے والے مظالم اور ان کا حسین انتقام پھر آپ نے اس کی تفصیل بیان کی وہ کیا ظلم تھا۔وہ ظلم یہ تھا کہ جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر بلال کو نگالٹا دیا جاتا تھا۔تم دیکھو ننگے پاؤں میں مئی اور جون میں نہیں چل سکتے۔اس کو ننگا کر کے تپتی ریت پر لٹا دیا جا تا تھا۔پھر کیلوں والے جوتے پہن کر نوجوان اس کے سینے پر ناچتے تھے اور کہتے تھے کہ کہو خدا کے سوا اور معبود ہیں۔کہو محمد رسول اللہ جھوٹا ہے اور بلال آگے سے اپنی حبشی زبان میں جب وہ بہت مارتے تھے کہتے تھے اسهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ أَسْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله کہ وہ شخص آگے سے یہی جواب دیتا تھا کہ تم مجھ پر کتنا بھی ظلم کرو میں نے جب دیکھ لیا ہے کہ خدا ایک ہے تو دو کس طرح کہہ دوں اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علی نام خدا کے سچے رسول ہیں تو میں انہیں جھوٹا کس طرح کہہ دوں ؟ اس پر وہ اور مار ناشروع کر دیتے تھے۔گرمیوں کے مہینوں کے موسم میں، ان مہینوں میں جب گرمیاں ہوتی ہیں اس موسم میں اس کے ساتھ یہی حال ہو تا تھا۔اسی طرح سردیوں میں وہ یہ کرتے تھے کہ ان کے پیروں میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی پتھروں والی گلیوں میں گھسیٹتے تھے۔ان کا چمڑ از خمی ہو جاتا تھا یعنی کھال زخمی ہو جاتی تھی۔وہ گھسیٹتے تھے اور کہتے تھے کہو جھوٹا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔کہو خدا کے سوا اور معبود ہیں تو